ٹرمپ کا خلیجی رہنماؤں سے رابطہ؛ ایران جنگ کے مستقبل پر اہم مشاورت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ Axios کے مطابق، مجوزہ اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے نمائندے شریک ہوں گے۔ بات چیت کا مرکزی موضوع ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی اور خطے کے مستقبل سے متعلق امریکی لائحہ عمل ہوگا۔
یہ ملاقات جرمنی میں امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے فوجی حکام کی خفیہ مشاورت کے بعد ہورہی ہے، جہاں علاقائی سکیورٹی اور ایران سے متعلق صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔ تاہم، دونوں سرگرمیوں کو کسی حتمی مشترکہ فوجی معاہدے کا حصہ قرار دینے کی تصدیق موجود نہیں۔
ٹرمپ کا وژن: جنگ کا اختتام یا نئی عسکری حکمتِ عملی؟
رائٹرز کے مطابق، 16 ستمبر کو ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران جنگ اختتام کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب، Axios کی 17 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، صدر نے کہا کہ وہ جنگ کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کے قریب ہیں اور بڑے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی فیصلے سے پہلے علاقائی اتحادیوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی بعد از جنگ حکمتِ عملی میں ایران کو محدود رکھنے اور اسرائیل کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر توجہ شامل بتائی گئی ہے۔ تاہم، اس حکمتِ عملی کی حتمی تفصیلات اور خلیجی ممالک کے ساتھ ممکنہ اتفاقِ رائے ابھی واضح نہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے اہم سوالات
خلیجی رہنماؤں کے لیے ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں، تیل و گیس کی تنصیبات کے تحفظ، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی اہم امور ہیں۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
یہ اجلاس ٹرمپ کو اتحادیوں کے خدشات سننے اور سفارتی و عسکری راستوں پر مشاورت کا موقع دے سکتا ہے۔ اس کے باوجود، فی الحال کسی نئی فوجی کارروائی، جنگ بندی یا امن معاہدے کو طے شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔




