اسٹیٹ بینک نے الرحیم ایکسچینج کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا

اسٹیٹ بینک نے 17 اگست 2026 کو الرحیم ایکسچینج (Pvt.) Ltd کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر کے اس کے ہیڈ آفس اور تمام شاخوں کو فارن ایکسچینج کاروبار سے روک دیا۔ خلاف ورزیوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 17 اگست 2026 کو الرحیم ایکسچینج کمپنی (Pvt.) Limited کا اتھارائزیشن اور لائسنس فوراً منسوخ کر دیا، اور کمپنی کے ہیڈ آفس اور تمام شاخوں کو کسی بھی فارِن ایکسچینج سے متعلق کاروبار کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

اسلام آباد — اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے الرحیم ایکسچینج کمپنی (Pvt.) Limited کا اتھارائزیشن اور لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ مرکزی بینک نے منسوخی کا اطلاق کمپنی کے ہیڈ آفس اور اس کی تمام شاخوں پر یکساں طور پر کر دیا، جس کے نتیجے میں کمپنی اب کسی بھی نوعیت کا غیر ملکی زرِ مبادلہ سے متعلق کاروبار انجام نہیں دے سکے گی۔

بیان میں اسٹیٹ بینک نے اس اقدام کی وجہ “مرکزی بینک کی ریگولیٹری ہدایات کی سنگین خلاف ورزیوں” قرار دی، تاہم نوٹس میں ان خلاف ورزیوں کی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس امر سے قبل بھی اسٹیٹ بینک نے مختلف تبادلہ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی رہی ہیں جب وہ ریگولیٹری تقاضوں یا مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی تھیں۔ یہ واضح نہیں کہ الرحیم ایکسچینج کے خلاف کن ریگولیٹری نکات کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اس نوٹس کے بارے میں کمپنی کا موقف فی الوقت سامنے نہیں آیا۔ مزید معلومات یا کمپنی کے ردِ عمل کی صورت میں اپ ڈیٹ فراہم کی جائے گی۔

یہ خبر ProPakistani کی 17 اگست 2026 کو شائع شدہ رپورٹ پر مبنی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519