🇹🇷 ترکیہ کے S-400 پر نیا موڑ، امارات منتقلی کی ڈیل اسرائیلی دباؤ سے رکی؟
ترکیہ کے روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی نظام کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کی مبینہ ڈیل نے انقرہ کی F-35 پروگرام میں واپسی کی کوششوں کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تازہ ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق ترکیہ اور روس نے S-400 سسٹمز کو UAE منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد انقرہ کے پاس موجود روسی نظام کے مسئلے کو حل کرکے امریکی CAATSA پابندیاں ختم کرنے اور ترکیہ کی F-35 پروگرام میں واپسی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم اسی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات پر S-400 نہ خریدنے کے لیے دباؤ ڈالا، کیونکہ وہ ترکیہ کی F-35 پروگرام میں واپسی کی مخالفت کرتا ہے۔
یہ معاملہ ابھی مکمل طور پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ معاہدہ نہیں ہے۔ جولائی میں روسی کریملن نے تصدیق کی تھی کہ ماسکو اور انقرہ S-400 کے مستقبل پر رابطے میں ہیں اور معاملے کو ’’انتہائی حساس‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ترکیہ کی وزارت دفاع نے بھی کہا تھا کہ S-400 سے متعلق متعدد سطحوں پر کام جاری ہے، تاہم کسی تیسرے ملک کو منتقلی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں کہا تھا کہ واشنگٹن ترکیہ پر CAATSA پابندیاں ختم کرے گا اور F-35 فروخت پر غور کرے گا۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے بعد میں کانگریس کو بتایا کہ ترکیہ نے ابھی وہ قانونی شرائط پوری نہیں کیں جن کے تحت F-35 کی منتقلی ممکن ہوسکتی ہے، جن میں S-400 کا ترکیہ کی تحویل سے نکلنا بھی شامل ہے۔
اس طرح S-400 کا مستقبل، روس کی منظوری، امریکی قانون اور اسرائیل کے تحفظات ترکیہ کی F-35 واپسی کے معاملے کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔




