لندن (بیورو رپورٹ) برطانیہ کی وزارتِ خارجہ کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ اسرائیلی سیٹلرز فلسطینیوں کی نسلی کشی کر رہے ہیں، برطانوی حکومت نے بستیوں سے منسلک تجارت اور خدمات پر پابندیوں کا اعلان کیا اور مغربی کنارے کے قبضے کو مکمل طور پر غیرقانونی قراردیا۔
برطانوی حکومت نے اسرائیلی سیٹلرز کے رویّے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’سیٹلر دہشت گرد‘‘ قرار دیا اور کچھ اسرائیلی حکومتی حلقوں پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی تائید کا الزام عائد کیا۔ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں کہا کہ برطانیہ اب مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیل کے قبضے کو مکمل طور پر غیرقانونی سمجھتا ہے۔
حکومت نے اعلان کیا کہ سیٹلرز سے منسلک تجارت اور خدمات کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کا ایک سلسلہ نافذ کیا جائے گا، توقع ہے کہ اِس مقصد کے لیے قانون سازی نو ماہ کے اندر پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کی اب تک کی سب سے سخت اور عملی مذمت ہے۔
اسرائیل نے برطانوی موقف کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے قابض وزیرِ خارجہ گڈیون سار نے ایڈ ملی بینڈ پر ’’بہت بڑا جھوٹ‘‘ پھیلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ برطانیہ کے رویّے کے خلاف جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔ سار نے جوابی تدابیر میں یروشلم میں برطانیہ کے قونصل خانے کو بند کرنے اور امریکہ کی قیادت والے غزہ کوآرڈینیشن مشن سے برطانیہ کو خارج کرنے کے شوشہ چھوڑا۔
برطانیہ ایسے 12 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بستیوں سے متعلق تجارت پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے، اِن ممالک میں کینیڈا، ڈنمارک، فِن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سپین اور سویڈن بھی شامل ہیں۔




