اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے

اسرائیل کا برطانیہ کو سفارتی جواب؛ تجارتی پابندی کے بعد قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

اسرائیل کا برطانیہ کو سفارتی جواب؛ تجارتی پابندی کے بعد قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

لندن: برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ایک نئے اور غیر معمولی سفارتی بحران میں داخل ہوگئے ہیں۔( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیل نے سخت جوابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے کو 30 دن کے اندر بند کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ وہاں تعینات برطانوی سفارت کاروں کی منظوری بھی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے مزید برطانوی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ غزہ میں امریکی قیادت میں قائم رابطہ مشن سے وابستہ برطانوی نمائندوں اور رام اللہ میں موجود برطانوی سفارت کاروں کو سات دن میں علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے برطانیہ کے اقدامات کو اسرائیل کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ردعمل دیا۔

تعلقات میں تبدیلی کہاں سے آئی؟

برطانیہ کا حالیہ اقدام اچانک سامنے نہیں آیا۔ لندن نے گزشتہ عرصے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کے حوالے سے اپنا مؤقف زیادہ سخت کیا ہے۔ ملی بینڈ نے واضح کیا کہ برطانیہ اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ اقتصادی اقدامات کے ذریعے بستیوں کی توسیع کے خلاف دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

اس نئی پالیسی میں برطانیہ اکیلا بھی نہیں۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا، جبکہ متعدد یورپی ممالک نے مزید اقدامات کی حمایت کی ہے۔ مجموعی طور پر 12 حکومتوں کی جانب سے بستیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی سامنے آئی ہے۔

اصل اہمیت کیا ہے؟

اقتصادی اعتبار سے بستیوں سے برآمد ہونے والی اشیا اسرائیل کی مجموعی تجارت کا بڑا حصہ نہیں، اس لیے فوری مالی نقصان محدود ہوسکتا ہے۔ لیکن اس اقدام کی سفارتی اور سیاسی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ برطانیہ طویل عرصے سے اسرائیل کا قریبی مغربی اتحادی رہا ہے؛ اب اسی ملک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کی قیادت کرنا تعلقات میں بنیادی پالیسی تبدیلی کی علامت ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کا برطانوی قونصل خانے کے خلاف اقدام ظاہر کرتا ہے کہ تل ابیب ان پابندیوں کو محض تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ سیاسی دباؤ اور اپنی پالیسی میں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یہ بحران آگے بڑھا تو دفاعی تعاون، سفارتی رابطوں، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ برطانوی سرگرمیوں اور دو ریاستی حل پر دونوں ملکوں کے اختلافات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔ یوں برطانیہ اسرائیل تعلقات اب روایتی اتحادی تعلقات سے نکل کر کھلے پالیسی اختلاف اور باہمی دباؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236