امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک 1.8 ارب ڈالر مالیت کی مبینہ لین دین کی بنا پر ’بنک مصر‘ (Banque Misr) کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی تجویز دی ہے۔
امریکہ نے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی مہم کے تحت مصر کے دوسرے بڑے بینک Banque Misr کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کے خلاف اہم مالیاتی کارروائی شروع کردی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق Financial Crimes Enforcement Network (FinCEN) نے ایک مجوزہ ضابطہ جاری کیا ہے جس کے تحت Banque Misr UAE کو امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ correspondent banking تعلقات رکھنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس اقدام کا براہِ راست اثر امریکی ڈالر کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی لین دین پر پڑے گا۔
امریکی حکام کا الزام ہے کہ Banque Misr کی UAE شاخوں نے ایران سے منسلک ایسے مالیاتی نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کی جو امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2026 کے دوران Banque Misr UAE نے تقریباً 1.8 ارب ڈالر مالیت کی ایسی ٹرانزیکشنز پراسیس کیں جو 103 ایسی کمپنیوں سے متعلق تھیں جنہیں امریکی حکام ممکنہ ایرانی ’’شیڈو بینکنگ‘‘ نیٹ ورک کا حصہ سمجھتے ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے ایران بیرونِ ملک آمدنی، تجارتی لین دین اور دیگر مالی سرگرمیوں کو امریکی پابندیوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکی خزانے کے مطابق Banque Misr UAE ایرانی مالیاتی نظام کو امریکی ڈالر تک رسائی فراہم کرنے والا ایک اہم راستہ بن چکا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سخت الفاظ میں کہا کہ واشنگٹن تہران کے باقی ماندہ معاشی راستوں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ایران کے سہولت کار امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ امریکی کارروائی کو Operation Economic Outcast کے تحت ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ امریکی اقدام کا اطلاق Banque Misr کے صرف UAE آپریشنز پر تجویز کیا گیا ہے۔ مصر میں موجود بینک کے مرکزی آپریشنز اور دیگر ممالک میں اس کی شاخیں اس کارروائی کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔ Reuters کے مطابق UAE میں Banque Misr کی چھ شاخیں اس اقدام سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب مصر اور متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینکوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر باہمی رابطے میں ہیں اور Banque Misr کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی ایران کے خلاف معاشی حکمتِ عملی میں ایک اہم موڑ سمجھی جارہی ہے، کیونکہ امریکہ اب صرف ایرانی اداروں پر براہِ راست پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ان غیر ملکی مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جن پر تہران کے مالیاتی نیٹ ورک کو سہولت دینے کا الزام ہے۔ اس پالیسی سے عالمی بینکوں اور کمپنیوں پر ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات کے حوالے سے مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔




