امریکہ نے آرمینیا۔آذربائیجان اَمن معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے این ویڈیا کے اے آئی چِپ کا استعمال کیا | چِپ ڈپلومیسی
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان اَمن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت (اے آٗئی) کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو سفارتی ترغیب کے طور پر استعمال کیا۔ دی وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکرات کاروں نے آرمینیا کے لیے این ویڈیا کے جدید اے آئی چپوں کی درآمد کی اجازت میں توسیع کی پیشکش کو ابتدائی اَمن معاہدے کے حصول میں ایک اہم ترغیب کے طور پر استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش آرمینیا کے فائر برڈ اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے سے منسلک تھی جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور این ویڈیاکے تعاون سے آرمینیا میں تیار کیا جا رہا ہے، تقریباً پانچ ارب ڈالر مالیت کے اِس منصوبے میں دسیوں ہزار جدید این ویڈیا پروسیسرز استعمال کیے جانے ہیں جس سے آرمینیا کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے شعبوں میں بڑی معاشی اور تکنیکی صلاحیت پیدا ہونے کی توقع ہے۔
وال سٹریٹ کے مطابق واشنگٹن کی حکمتِ عملی کا مقصد آرمینیا کے وزیراعظم نِکول پاشینیان کو اَمن معاہدے سے ایک نمایاں معاشی فائدہ دکھانے کا موقع فراہم کرنا تھا جسے وہ اپنے عوام کے سامنے امن کے ممکنہ ’’معاشی ثمر‘‘ کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔
یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی’’چِپ ڈپلومیسی ‘‘ کی ایک نمایاں مثال قرار دی جارہی ہے۔ اِس تصور کے تحت امریکہ جدید اور محدود دستیابی رکھنے والی اے آئی ٹیکنالوجی، خصوصاً این ویڈیا کے اعلیٰ درجے کے چِپوں کو صرف تجارتی مصنوعات کے طور پر نہیں بلکہ خارجہ پالیسی اور سفارتی مقاصد کے حصول کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کررہا ہے۔
فائر بَرڈ منصوبہ پہلے ہی آرمینیا کے ٹیکنالوجی منظرنامے میں نمایاں حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ این ویڈیا کے مطابق اگست 2026ء میں ہرازدان میں فائر بَرڈ فیکٹری کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا جبکہ منصوبے کے مختلف مراحل میں 70 ہزار سے زائد این ویڈیا جی پی یوز نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ این ویڈیا نے فائر بَرڈ میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔
فائر بَرڈ نے فروری 2026ء میں اعلان کیا تھا کہ اِسے امریکہ سے مزید 41 ہزار این ویڈیا جی بی۔300 جی پی یوز کی فروخت اور ترسیل کے لیے برآمدی اجازتیں حاصل ہوئی ہیں جس سے اِس منصوبے کی ٹیکنالوجیکل اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
وال سٹریٹ کے مطابق میں اِس پیشرفت کو اِس لحاظ سے اہم قرار دیا گیا ہے کہ یہ اُن نمایاں مثالوں میں شامل ہے جہاں جدید اے آئی چِپوں تک رسائی کو براہِ راست اَمن اور سفارتی مذاکرات کی حمایت کے لیے استعمال کیا گیا۔ یوں جنوبی قفقاز میں اَمن کوششوں کے ساتھ ساتھ اے آئی انفراسٹرکچر، برآمدی اجازتوں اور عالمی ٹیکنالوجی سیاست کا ایک نیا تعلق بھی سامنے آیا ہے۔



