کشمیری رہنما یاسین ملک کا بڑا فیصلہ، مشعال ملک سے علیحدگی اور سزائے موت کی درخواست

کشمیری رہنما یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے اور تہاڑ جیل سے مشعال ملک کو طلاق دینے کا فیصلہ بھی سنایا ہے۔

تہاڑ جیل سے یاسین ملک کا بڑا فیصلہ، مشعال ملک سے علیحدگی

تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے سربراہ یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں ایک غیر معمولی قانونی مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ وہ مزید مقدمہ نہیں لڑنا چاہتے اور انہیں سزائے موت دی جائے۔ تاہم ملک نے اپنے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا اور واضح کیا کہ مقدمہ لڑنے سے دستبرداری کو جرم کا اعتراف نہ سمجھا جائے۔

یہ مقدمہ 19 اپریل 1990 کو سرینگر میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل سے متعلق ہے۔ جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی نے جون 2026 میں 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی، جس میں یاسین ملک کو بھی ملزم نامزد کیا گیا۔ ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ اُس وقت شدید زخمی اور زیرِ علاج تھے اور ان کے خلاف مقدمہ سیاسی حالات کے باعث قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طویل غور و فکر اور استخارہ کے بعد مقدمہ مزید نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

اسی بیان میں یاسین ملک نے اپنی پاکستانی اہلیہ مشعال حسین ملک سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ مشعال اپنی باقی زندگی ان کے حالات کے بوجھ یا بیوگی کے خدشے میں گزاریں۔ دونوں کی شادی 2009 میں ہوئی تھی اور ان کی ایک بیٹی راضیۃ السultانہ ہے۔ عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 19 ستمبر 2026 مقرر کی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236