محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ کی تنزلی کی وجہ قرار دے دی: کوچنگ کا فقدان

سابق کپتان محمد یوسف نے کوچنگ کے فقدان اور تکنیکی خامیوں کو پاکستان کرکٹ کی بیٹنگ کمزوریوں اور ٹیم کی تنزلی کی بنیادی وجہ قرار دیا، تبصرہ انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ کے بعد آیا۔

سابق کپتان محمد یوسف نے قومی ٹیم کی مسلسل بیٹنگ کمزوریوں کا ذمہ دار طویل عرصے سے موجود تکنیکی خلل اور کوچنگ سیٹ اپ کو قرار دیا، یہ ردعمل تب سامنے آیا جب انگلینڈ نے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو پہلی اننگز میں 110 رنز پر آوٹ کر دیا اور مجموعی لیڈ 357 رنز کر دی۔

سابق پاکستانی کپتان محمد یوسف نے قومی ٹیم کی موجودہ بیٹنگ مسائل کے پیچھے کوچنگ کی خامیوں کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ یہ تبصرے تب سامنے آئے جب انگلینڈ نے پہلے اننگز میں 290 رنز کے بعد میزبانوں نے پاکستان کو پہلی اننگز میں صرف 110 رنز تک محدود کر دیا اور دوسری اننگز میں 177-7 تک پہنچ کر مجموعی طور پر 357 رنز کی برتری حاصل کر لی۔

محمد یوسف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چند سال پہلے وہ اس بارے میں متنبہ کر چکے تھے، مگر ”کچھ نام نہاد کوچز” نے بابر اعظم سمیت کھلاڑیوں کو ابتدائی کیریئر میں تکنیکی خامیوں پر کام کرنے سے روکا۔ اُن کا کہنا تھا: ‘‘کئی سال پہلے میں نے اس بارے میں انتباہ کیا تھا، مگر بدقسمتی سے بابر اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کے اردگرد موجود کچھ نام نہاد کوچز نے انہیں وہ مسائل درست کرنے ہی نہیں دیا جو آسانی سے حل ہو سکتے تھے۔ اسی ناکامی نے پاکستان کرکٹ کو اس زوال تک کھینچ لیا جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔’’

یوسف نے مزید کہا کہ ایسے کوچز کھیل کے لئے زہریلے ہیں، اُن کے پاس وژن نہیں، وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور سب سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو غلط مشورے دیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھلاڑی یا اہلِ خانہ یہ نہ جان پائیں کہ کس کی بات سنی جائے تو ان کھلاڑیوں کے کیریئر اپنی مقررہ عمر سے قبل ہی ختم ہو سکتے ہیں۔

سابق کپتان نے پاکستانی بیٹسمینز کی تکنیکی خامیوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ وہ خامیاں جو برسوں پہلے درست ہو سکتی تھیں، اب مختلف حالات میں بین الاقوامی مخالفین کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ‘‘ہمارے کھلاڑیوں کی ناقص تکنیک اب بنگلہ دیش سے لے کر انگلینڈ تک بے دردی سے بے نقاب ہو چکی ہے۔ جو باتیں برسوں پہلے درست ہو سکتی تھیں، آج ایک واضح کمزوری بن چکی ہیں۔’’

محمد یوسف ٹیسٹ کرکٹ کے ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز کے ریکارڈ کے حامل بھی ہیں — انہوں نے 2006 میں 11 ٹیسٹس میں 1,788 رنز بنائے، جن میں 9 سنچریاں اور 3 ففٹی شامل تھیں۔

میچ کی صورتحال اور یوسف کے تبصروں نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ میں تکنیکی تربیت اور کوچنگ کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515