زیلنسکی کا چین کو انتباہ، روسی حمایت یوکرین جنگ طول دے رہی ہے
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بیجنگ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور فوجی صنعتی تعاون سے یوکرین کی جنگ طول پکڑ رہی ہے۔ کیف طویل عرصے سے چین پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ روسی دفاعی صنعت کو ٹیکنالوجی، پرزہ جات اور دیگر وسائل کی فراہمی کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور مالی روابط بھی برقرار ہیں۔
زیلنسکی کا یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار بڑھا کر یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی چین پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ماسکو پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرے۔ تاہم بیجنگ روس کے ساتھ اپنے معاشی تعاون کو جائز قرار دیتا ہے اور جنگ کے لیے براہِ راست ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات مسترد کرتا ہے۔




