پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خلیجی سلامتی کے نئے دور کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس تعاون، عسکری منصوبہ بندی اور دفاعی صنعت میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ فوجی تعلقات، اس کی جغرافیائی اہمیت اور دفاعی صلاحیتوں نے اسے خطے کے ابھرتے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے میں نمایاں مقام دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سمندری راستوں کے تحفظ، توانائی کی ترسیل کے استحکام اور علاقائی بحرانوں کے دوران مشترکہ ردِعمل کو مضبوط بنا سکتا ہے، تاہم اس اتحاد کی حقیقی کامیابی کا انحصار مستقبل میں اس پر مؤثر عمل درآمد اور رکن ممالک کے مسلسل سیاسی تعاون پر ہوگا۔
پاکستان خلیجی سلامتی کا نیا مرکز بن گیا
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خلیجی سلامتی کے نئے دور کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع، ا




