پنجاب میں دودھ کے نام پر ‘میٹھا زہر’؟؟؟ شہریوں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا
لاہور: پنجاب، خصوصاً لاہور میں کیمیکل ملا دودھ فروخت ہونے کے الزامات نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انجمن حقوقِ شہریاں لاہور نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ارسال

,لاہور: جاوید اقبال کی رپورٹ
پنجاب، خصوصاً لاہور میں کیمیکل ملا دودھ فروخت ہونے کے الزامات نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انجمن حقوقِ شہریاں لاہور نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ارسال کردہ مراسلے میں دعویٰ کیا ہے کہ روزانہ لاکھوں لیٹر مشتبہ دودھ پنجاب کے مختلف اضلاع سے لاہور سمیت بڑے شہروں میں سپلائی کیا جا رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر کیمیکلز، آئل، وائٹنرز اور دیگر مضر اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں جلو موڑ، شاہدرہ، بیدیاں، باٹا پور، اوکاڑہ، ساہیوال، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، لالہ موسیٰ، میاں چنوں اور پاکپتن سمیت متعدد علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسا دودھ جگر، گردوں اور نظامِ ہاضمہ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ غیر معیاری دودھ کے خلاف روزانہ کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ شہری جدید لیبارٹریوں اور موبائل ٹیسٹنگ کے ذریعے سخت نگرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
‘Sweet Poison’ in Milk? Chemical Adulteration Claims Raise Alarm in Punjab
LAHORE: Serious concerns have emerged over the alleged sale of chemically adulterated milk across Lahore and several major cities of Punjab. In a letter addressed to Chief Minister Maryam Nawaz Sharif, the Anjuman Huqooq-e-Shahriyan Lahore claimed that millions of litres of suspected milk are supplied daily, with chemicals, oils, whiteners and other harmful substances allegedly used to enhance its appearance. The report identifies areas including Jallo Mor, Shahdara, Bedian, Batapur, Okara, Sahiwal, Nankana Sahib, Sheikhupura, Gujranwala, Sialkot, Jhelum, Lala Musa, Mian Channu, Pakpattan and others as part of the alleged supply chain. Medical experts warn that prolonged consumption may damage the liver, kidneys and digestive system. The Punjab Food Authority says inspections, tanker seizures and legal action against violators are continuing, while citizens demand stricter testing through advanced laboratories and mobile testing units.



