چنیوٹ میں چناب کا سیلابی ریلا تباہی مچا گیا، جہلم میں نالے کا بند ٹوٹنے سے آبادیاں محصور
پنجاب میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران چنیوٹ میں دریائے چناب کا سیلابی ریلا فصلوں میں داخل اور جہلم کے بنہاں نالے کا بند ٹوٹ گیا؛ 24 گھنٹوں میں 9 ہلاک، 20 زخمی۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب میں مون سون کا تیسرا سپیل جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کچے مکانات گرنے اور کرنٹ لگنے سے نو افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے، چنیوٹ میں دریائے چناب کا سیلابی ریلا فصلوں اور دیہات میں داخل ہو چکا ہے جبکہ جہلم کے نالے کا بند ٹوٹنے سے قریبی آبادیوں میں رہائشی محصور ہو کر رہ گئے۔
لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون کی تیز بارشیں جاری ہیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل میں سب سے زیادہ 115 ملی میٹر اور گوجرانوالہ میں 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ دیگر مقامات پر گجرات 94، نارووال 68، منڈی بہاؤالدین 65، سیالکوٹ 52، لاہور 37 اور جہلم 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی؛ لاہور میں گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی طور پر 450 ملی میٹر بارش نوٹ کی گئی۔
جہلم کے سب سے بڑے برساتی نالے ”بنہاں“ کا بند ٹوٹ گیا ہے جس کی مرمت ابھی تک شروع نہیں ہو سکی جبکہ قریبی آبادیاں محصور ہیں۔ چنیوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں ایک لاکھ 8 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جو فصلوں اور دیہات میں داخل ہو چکا ہے۔ گجرات میں 202 ملی میٹر بارش کے بعد اربن فلڈنگ ہوئی اور واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں رات بھر مصروف رہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں کچے مکانات گرنے اور کرنٹ لگنے سے نو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مون سون کے دوران صوبے بھر میں اب تک 29 شہری جاں بحق اور 203 زخمی ہو چکے ہیں؛ 52 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے تمام متعلقہ اضلاع کو عملہ اور مشینری ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 تا 50 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے ڈی سیز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرنے کے احکامات دیے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے تیسرا اسپیل 27 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
واضح ہے کہ ملک کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے، دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ جبکہ چناب میں ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے بالائی اضلاع میں گلیشیئروں اور برفانی جھیلوں کے پگھلنے کے خدشات کے پیشِ نظر چترال، سوات، اپر دیر، مانسہرہ وغیرہ کی انتظامیہ کو الرٹ کرتے ہوئے حساس مقامات کی نگرانی، بروقت وارننگ اور ممکنہ انخلا کی ہدایات جاری کی ہیں۔ عوام کو دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیئر جھیلوں کے قریب جانے اور کیمپنگ سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔



