جنگ ہو یا جنگ بندی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے توانائی کمپنیوں کی کمائی میں اضافہ
لاہور: ایران سے متعلق جنگی کشیدگی اور بعد ازاں جنگ بندی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بڑی توانائی کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ کیا۔ اطل

لاہور: ایران سے متعلق جنگی کشیدگی اور بعد ازاں جنگ بندی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بڑی توانائی کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق شیل کے منافع میں دوگنا اضافہ ہوا، جبکہ سعودی آرامکو نے بلند قیمتوں سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا۔ امریکہ کی ایکسون موبل، شیورون، کونوکو فلپس اور اوکسیڈینٹل پیٹرولیم کی دوسری سہ ماہی کی مجموعی آمدن تقریباً 31 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ ایران نے اسی عرصے میں تیل کی فروخت سے تقریباً 18 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کرنے کی اطلاع دی۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا جنگ بندی جیسے بڑے جغرافیائی سیاسی واقعات تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتے ہیں، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلے متعدد معاشی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں اور مستقبل کی قیمتوں کی پیش گوئی یقینی نہیں ہوتی۔
War Fuels Energy Giants as Oil Price Volatility Lifts Profits
LONDON: Rising oil prices during the Iran-related conflict have significantly boosted earnings across the global energy sector. Shell reportedly saw its profits double, while Saudi Aramco benefited from higher crude prices. In the United States, ExxonMobil, Chevron, ConocoPhillips, and Occidental Petroleum are collectively expected to report around $31 billion in second-quarter earnings. Meanwhile, Iran is reported to have generated approximately $18 billion in oil revenue during the conflict and subsequent ceasefire period. Analysts note that geopolitical tensions and ceasefire announcements often trigger sharp swings in oil prices, creating periods of heightened volatility that investors closely monitor. However, market performance depends on multiple factors, and price movements remain inherently uncertain.



