مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سکیورٹی کا نیا باب
سعودی عرب نے ایران سے منسلک عراقی ملیشیاؤں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر اپنی دفاعی اور سکیورٹی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ریاض نے حساس تنصیبات اور سرحدی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ علاقائی اتحادیوں سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے۔ اسی دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی سٹریٹجک صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتا ہے




