طالبان کا پاکستان پر اسمگلنگ کا الزام، سیٹلائٹ اعدادوشمار پر سوالات
کابل/اسلام آباد، (ویب ڈیسک) 29 اکتوبر 2026 — افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ 2026 میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے منشیات کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی 26,800 ہیکٹر زمین کی نشاندہی کی گئی اور متعلقہ فصلیں تلف کر دی گئیں۔ طالبان حکام نے اس کارروائی کو انسدادِ منشیات مہم کی کامیابی قرار دیا۔ اسی دوران وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے دعویٰ کیا کہ روایتی اور مصنوعی منشیات کی بڑی مقدار پاکستان کے راستے افغانستان میں اسمگل کی جا رہی ہے اور اسلام آباد سے سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔
اعدادوشمار میں اختلاف: سیٹلائٹ کیا بتاتے ہیں؟
طالبان کے دعوے کے برعکس، 29 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیے کی بنیاد پر افغانستان میں پوست کی کاشت کا تخمینہ 43,300 ہیکٹر رپورٹ کیا، جو 2025 کے تخمینے سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ طالبان حکام نے اقوامِ متحدہ کے اس اندازے سے اختلاف کیا ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فصلیں تلف کرنے کے حکومتی اعدادوشمار اور پورے ملک میں باقی رہ جانے والی کاشت کے تخمینے کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
تکنیکی پہلو: سیٹلائٹ نگرانی اور سرحدی اسمگلنگ
سیٹلائٹ تصاویر فصلوں کے محلِ وقوع، رقبے اور وقت کے ساتھ تبدیلی کی نشاندہی کر سکتی ہیں، لیکن صرف تصاویر سے ہر فصل کی نوعیت یا منشیات کی سرحد پار نقل و حرکت ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے زمینی تصدیق، ضبط شدہ منشیات کی لیبارٹری جانچ، کسٹمز ریکارڈ، راستوں کی نگرانی اور مشترکہ انٹیلی جنس ضروری ہیں۔ مصنوعی منشیات کی روک تھام کے لیے کیمیائی پیشگی مادّوں اور غیر قانونی تیاری کی سہولتوں کی نگرانی بھی اہم ہے۔اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے افغانستان میں مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین، کے بڑھتے ہوئے خطرے اور علاقائی اسمگلنگ کے بدلتے راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ (یو این او ڈی سی) رپورٹ پاکستان اور افغانستان کے لیے مؤثر حکمتِ عملی کا تقاضا ہے کہ سیاسی الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد، مشترکہ سرحدی کارروائیوں، معلومات کے تبادلے اور قانونی تجارت کی نگرانی پر توجہ دی جائے۔




