عاصم منیر نے بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے دفاعی و سٹریٹجک تعلقات کو مسلمانوں اور خطے کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا، محسن رضائی

محسن رضائی نے ایرانی ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں 26 اکتوبر کے چار ملکی اجلاس کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے تعلقات کو مسلم دنیا کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا۔ رضائی کے مطابق سعودی وزیرِ دفاع اور ترک انٹیلی جنس سربراہ نے بھی اسرائیل کی علاقائی پالیسی پر تشویش ظاہر کی۔

محسن رضائی کا دعویٰ؛ بھارت۔اسرائیل قربت کو مسلم دنیا کے لیے خطرہ قرار، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی نئی علاقائی صف بندی

تہران/اسلام آباد،(ویب ڈیسک) یکم نومبر 2026 — ایران کے سکیورٹی رہنما محسن رضائی نے اپنے تازہ ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے دفاعی و سٹریٹجک تعلقات کو مسلمانوں اور خطے کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا۔ رضائی کے مطابق، عاصم منیر نے اسے ’’ہندو۔یہودی گٹھ جوڑ‘‘ کے تناظر میں بیان کیا اور اسرائیل کی علاقائی پالیسی پر تشویش ظاہر کی۔ یہ بیان رضائی کی جانب سے اجلاس کی گفتگو کی تشریح ہے، چاروں ممالک کا مشترکہ طور پر جاری کردہ مؤقف نہیں۔

26 اکتوبر کو ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی نمائندے تہران میں جمع ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔ ایرانی وفد میں محسن رضائی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔ اجلاس میں علاقائی سلامتی، فلسطین، لبنان اور امریکہ۔اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے اثرات زیرِ بحث آئے۔

رضائی کے مطابق سعودی وزیرِ دفاع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے بعد اسرائیل ترکیہ اور پھر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ترک انٹیلی جنس سربراہ نے بھی علاقائی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، ان مخصوص گفتگوؤں کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات میں ڈرون، میزائل دفاع، نگرانی، سائبر ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی میں تعاون شامل ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کا مسئلہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ اسے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔تہران اجلاس کی اہمیت صرف اسرائیل مخالف بیانات نہیں بلکہ چار علاقائی طاقتوں کے درمیان سکیورٹی رابطوں کا تسلسل ہے۔ اگر یہ رابطے مشترکہ انٹیلی جنس، دفاعی مشاورت اور سفارتی ہم آہنگی میں تبدیل ہوتے ہیں تو خطے میں نئی سٹریٹجک صف بندی جنم لے سکتی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 364