بھارت میں انتخابی فہرستوں کے خلاف عوامی بغاوت، مودی حکومت کے لیے جمہوری بحران کا خطرہ
نئی دہلی، (ویب ڈیسک) یکم نومبر 2026 — بھارت میں انتخابی فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی نے سیاسی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ہزاروں افراد نے اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ اہتمام احتجاج کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی اس احتجاج میں نمایاں آواز بن کر سامنے آئے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں سے نام خارج کرکے لاکھوں شہریوں کو انتخابی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
13 تنازع کا مرکز الیکشن کمیشن کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی خصوصی گہری نظرِ ثانی مہم ہے، جو گزشتہ سال شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے گئے، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ متوفی افراد، 6 کروڑ 30 لاکھ نقل مکانی کرنے والے، ایک کروڑ ڈپلیکیٹ اندراجات اور 3 کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام انتخابی فہرستوں کو درست بنانے کے لیے ضروری تھا۔ لیکن اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حقیقی ووٹرز بھی اس عمل کی زد میں آئے۔ (ایس آئی آر) ناقدین کے مطابق ناموں کے ہجے، شادی کے بعد خواتین کے پتے یا نام کی تبدیلی، خاندانی ریکارڈ میں فرق اور غیر شفاف سافٹ ویئر نے لاکھوں شہریوں کو مشکوک قرار دینے میں کردار ادا کیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی طریقۂ کار کو غیر شفاف اور کمزور قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق خواتین، غریب طبقات اور مسلم اقلیت کو غیر متناسب نقصان پہنچنے کے شواہد موجود ہیں۔
بھارت میں 2027 کے اہم ریاستی انتخابات سے پہلے یہ تنازع انتخابی اعتماد، اقلیتی حقوق اور اداروں کی غیر جانب داری کا امتحان بن سکتا ہے۔ اپوزیشن اسے ووٹ کے حق پر حملہ قرار دیتی ہے، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔ اب اصل سوال صرف 13 کروڑ ناموں کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کتنے اہل شہری اپیل کے باوجود اپنے ووٹ کا حق واپس حاصل کر پائیں گے۔




