لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر سید عبد الرحیم شیرازی نے ’’اوور ڈیؤڈ‘‘ ٹاپ 100 ای چالان ڈیفالٹر گاڑیوں کے خلاف بڑی کارروائی کا حکم دیا، جس میں ٹریفک پولیس ٹیموں کو سیف سٹی کے تعاون سے گاڑیاں ٹریک اور ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران ایک پِک اپ ڈرائیور جو ٹاپ 10 ڈیفالٹرز میں شامل تھا گرفتار ہوا اور اس کے خلاف جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔
لاہور: چیف ٹریفک آفیسر سید عبد الرحیم شیرازی نے ٹریفک پولیس اور سیف سٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اوور ڈیؤڈ ٹاپ 100 ای چالان ڈیفالٹر گاڑیوں کی فہرست کے مطابق ان گاڑیوں کو ٹریک اور ضبط کریں۔ شیرازی کے احکامات کے تحت متعلقہ ای چالان اسکواڈز کو یہ فہرست موصول ہو چکی ہے اور آپریشن جلد شروع کیا گیا ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں ایک پِک اپ ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا جو ٹاپ 10 ای چالان ڈیفالٹرز میں شامل تھا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اس ڈرائیور نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی 80 مرتبہ کی، جس کے باعث اس پر مجموعی طور پر چار لاکھ 10 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد ہو چکے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب انہیں اس ڈرائیور کے اوور ڈیؤڈ جرمانوں کا علم ہوا تو الزام ہے کہ اس نے اپنی گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ نصب کر دی۔ جعلی نمبر پلیٹ لگانے کے باوجود گاڑی نے ٹریفک قوانین کی مزید خلاف ورزیاں جاری رکھی، جس کے نتیجے میں جعلی نمبر رجسٹریشن کے تحت مزید 21 ہزار روپے کے ای چالان کیے گئے۔
گرفتار ڈرائیور اور گاڑی کو ضبط کر کے نواں کوٹ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ گرفتار ڈرائیور کو واجب الادا جرمانے بھی ادا کرنا ہوں گے۔ کیس میں جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال کا الگ چالان اور قانونی کارروائی شامل ہے۔
مزید برآں، لاہور ٹریفک پولیس نے ای چالان ڈیفالٹرز کے خلاف 14 پولیس خدمات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں میں ڈرائیونگ لائسنس خدمات، کریکٹر سرٹیفکیٹس اور مختلف تصدیقی سہولیات شامل ہیں، جن کی فراہمی ان افراد تک محدود یا معطل کر دی گئی ہے جب تک وہ اپنے واجب الادا جرمانے ادا نہیں کرتے۔
شیرازی نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور جرمانوں سے بچاؤ کے لیے جعلی رجسٹریشن یا نمبر پلیٹس کے استعمال پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور سیف سٹی کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے ذریعے دیگر بڑے ڈیفالٹرز کی بھی گرفتاری ممکن ہے۔
ٹریفک حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جرمانے جلد ادا کریں تاکہ اضافی قانونی پیچیدگیوں اور پابندیوں سے بچا جا سکے۔



