ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مجوزہ ’’اقتصادی جنگ‘‘ کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دے دیا جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے سبب عالمی بحری تجارت متاثر ہونے پر جنوبی کوریا نے آرکٹک کے ذریعے کنٹینر جہاز بھیج کر متبادل راستے آزمانا شروع کر دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےسوشل میڈیا پر کہا کہ واشنگٹن کا منصوبہ دوسرے ممالک کی خودمختاری کو ’’عبوری، مشروط اور قابلِ تنسیخ‘‘ بنا دے گا اور ایسے ثانوی اقتصادی دباؤ کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ بقائی نے لکھا کہ کسی ایک ملک کے دائرۂ اختیار میں آںے والے بینکوں، کمپنیوں یا ہوائی اڈوں کو دوسرے ممالک کی طرف سے اِس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ترک کر دیں۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات دنیا کو ’’روایتی نوآبادیاتی نظام‘‘ کی جانب واپس لے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرہ کیا ہے کہ وہ اُن ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرے گا جو ایران کی حمایت جاری رکھیں گے اور واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ چاہتا ہے۔ ایران نے یہ موقف ایسے وقت میں واضح کیا ہے جب فروری سے شروع ہونے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باعث عالمی بحری تجارت شدید متاثر ہوئی ہے اور حکومتیں متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔
اسی پس منظر میں جنوبی کوریا نے ہفتے کو بوسان نیو پورٹ سے کنٹینر جہاز ’’پین سٹار ایکرو‘‘ آرکٹک کے راستے یورپ بھیجنے کی آزمائشی تیاری مکمل کر لی۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ سمندری امور کے ایک اہلکار نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ خراب موسم جیسی غیر متوقع صورتحال نہ آئی تو جہاز شب 8 بجے روانہ ہوگا اور ۔ برطانیہ کی بندرگاہ فیلکس سٹو، نیدرلینڈز کے روٹرڈیم اور پولینڈ کے گدانسک سے کر واپس لوٹے گا، یہ سفر قریباً 45 دن کا ہو گا۔
ایک چینی کنٹینر جہاز ’’دبئی ٹاور‘‘ بھی اِس ماہ ننگبو سے روانہ ہو کر آبنائے بیرنگ کے راستے روس کے آرکٹک ساحل کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ کوریا انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامک پالیسی کے مطابق آرکٹک راستہ اختیار کرنے سے روایتی نہرِ سوئز کے مقابلے میں کم و بیش سات ہزار کلومیٹر اور 10 دن کی بچت ممکن ہے۔
ماحولیاتی تنظیموں نے انتباہ کیا ہے کہ اِس راستے کے بڑھتے استعمال سے قطبی برف کے پگھلاؤ میں تیزی آ سکتی ہے جبکہ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آرکٹک راستہ اختیار کرنے والے جہاز مغربی ممالک کی روس پر عائد پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں کیونکہ انہیں روسی بحری رہنمائی اور موسمیاتی خدمات کے لیے ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔




