تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول سستا ہونے کا امکان کم

عالمی خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں مگر پاکستان میں پٹرول فوراً سستا ہونے کا امکان کم ہے؛ گھریلو قیمتوں کا تعین زرِ مبادلہ، ٹیکس اور دیگر خرچوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی قیمت فوراً نہیں کم ہونے کی توقع ہے کیونکہ گھریلو نرخ پیٹرولیم ڈویژن کی قیمت سازی کے فارمولے، زرِ مبادلہ، ٹیکسوں اور دیگر لاگتوں کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اس امید کے ساتھ نیچے آئیں کہ آبنائے ہُرمز کے راستے کی روانی آہستہ آہستہ بحال ہو سکتی ہے مگر یہ کمی پاکستان میں فوراً پیٹرولیم صارفین تک منتقل ہونے کے امکانات کم ہیں۔

پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق برانٹ خام تیل کی قیمت تقریبا $86.69 فی بیرل رہی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) نزدیک $78 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اس کے باوجود، پاکستان میں حکام نے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں: پٹرول 343.1 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 371.80 روپے فی لیٹر۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والی تازہ صورتِ حال نے عالمی تیل کی فراہمی کے طویل وقفے کے خدشات میں کمی لائی ہے مگر جہاز رانی کے ڈیٹا سے ظاہر ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے ٹینکرز کی آمد و رفت بہت محدود ہے۔ منگل کے روز محض ایک ہی بحری جہاز تنگہ میں داخل ہوتا ریکارڈ کیا گیا، اور اگلے 24 گھنٹوں میں کوئی خارج ہونے والا ٹینکر ریکارڈ نہیں ہوا۔

عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے اندازے بھی کافی متغیر ہیں؛ کچھ آزاد شپنگ سروے نے موجودہ بہاؤ کو تقریبا 2-6 ملین بیرل فی دن بتایا ہے۔ یہ تغیرات عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے ہیں، مگر مقامی ریٹ طے کرنے والے عناصر مختلف ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین ایک طے شدہ میکانزم کے تحت ہوتا ہے جس میں خام تیل کی بین الاقوامی قیمت کے علاوہ زرِ مبادلہ، ٹیکس، شپنگ فریٹ، پرمیئمز اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی قیمت میں مختصر مدتی کمی فوری طور پر صارف تک منتقل نہیں ہوگی۔

نتیجتاً عام پاکستانی صارفین کو پٹرول میں کوئی فوری رعایت ملنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں اور شرحوں میں ممکنہ کمی کے لیے مزید وقت اور متعدد اقتصادی عوامل کے بدلنے کی ضرورت ہوگی۔

مزید اقتصادی اور کاروباری اپ ڈیٹس کے لیے متعلقہ ذرائع سے متصل رہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531