چین اور نیپال کی سرحدی پٹی میں گلیشیئر کے منہدم ہونے سے پیدا شدہ سیلاب میں کل ہلاکتیں 1,003 ہو گئیں جبکہ مجموعی طور پر 4,462 لوگ لاپتہ ہیں، نیپالی وزیراعظم بالندرا شاہ نے واقعے کو موسمیاتی تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اقدام کا مطالبہ کر دیا ہے۔
نیپال کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور اتنی بڑی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل محدود ہیں۔ نیپالی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اب تک 42 ملین ڈالر سے زائد امداد مل چکی ہے جبکہ توقع ہے کہ بین الاقوامی تعاون میں اضافہ ہوگا۔
پڑوسی ممالک بھارت اور چین بھی ریسکیو اور سپورٹ آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں جس میں بیلی پلوں کی تنصیب اور دور دراز علاقوں تک امداد پہنچانا شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی حکام نے واقعے کو ’’اہم یاد دہانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہاڑی ماحولیاتی نظام خطرے میں ہیں اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔




