اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان میں صرف پانچ فیپاکستان میں رائیڈ ہیلنگ صرف پانچ فیصد، آن لائن فوڈ سیلز ایک فیصد سے بھی کمصد افراد رائیڈ ہیلنگ خدمات استعمال کرتے ہیں جبکہ آن لائن پلیٹ فارموں سے ملک کی خوراکی فروخت کا ایک فصد سے بھی کم حصہ بنتے ہیں، اِن ڈرائیو نے مقامی مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک پینل مباحثے میں ان ڈرائیو کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ویل ابراہیم اور فوڈ پانڈا کے ڈائریکٹر شاریق مصطفیٰ نے شیئر کیے۔
بین الاقوامی سطح پر رائیڈ ہیلنگ کی اوسط رسائی تقریباً 20% ہے، مگر پاکستان میں یہ شرح محض 5% ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک ڈیجیٹل موبلٹی کے لیے ایک بڑا مگر غیر مستعمل بازار ہے۔
ان ڈرائیو کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ویل ابراہیم نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری توسیع کے لیے زبردست مواقع موجود ہیں اور کمپنی یہاں مزید سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان ڈرائیو فی الحال پاکستان کے 30 شہروں میں دستیاب ہے جبکہ دیگر پلیٹ فارمز جیسے یانگو اور بائیکا کی کوریج محدود ہے۔
چھوٹے شہروں اور قصبوں میں رائیڈ ہیلنگ کی کم رسائی کے پیچھے کم ڈیجیٹل خواندگی، محدود انٹرنیٹ اور ثقافتی عومل سمیت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف صارفین کی جانب سے آن لائن سروسز اپنانے میں رکاوٹ ہیں بلکہ ڈرائیورز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع بھی محدود رکھتے ہیں۔
فوڈ پانڈا کے ڈائریکٹر شاریق مصطفیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ملک کی خوراکی فروخت کا 1% سے بھی کم حصہ سنبھال رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ پلیٹ فارمز کمزور گھریلو اور غیر رسمی شعبوں میں روزگار کے ذرائع پر نمایاں اثر ڈال رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومتی اور نجی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ رسائی اور ڈیجیٹل خواندگی پر توجہ دی جائے تو پاکستان میں رائیڈ ہیلنگ اور آن لائن ڈلیوری کی مانگ میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے، جس سے صارفین کو سہولت اور ہزاروں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔




