ڈرون خریدنے کے لیے یوکرین ’’پورن‘‘ انڈسٹری کو قانونی بنانے پر مجبور

یوکرین کی طویل جنگ کے باعث بالغوں کے لیے مخصوص مواد (ایڈلٹ کنٹینٹ) کی صنعت کو قانونی حیثیت دینے اور اس پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک غیر معمولی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے دفاع اور ڈرونز کے لیے سالانہ 25 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے

جنگ کی قیمت: ڈرونز کے لیے پورن انڈسٹری کو قانونی بنانے پر کیوں مجبور؟

( مانیٹرنگ ڈیسک) کیف: روس کے ساتھ جاری طویل جنگ نے یوکرین کو ایسے غیر معمولی معاشی اور قانونی فیصلوں پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے جن کا چند سال پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یوکرین میں بالغوں کے آن لائن مواد کی صنعت کو قانونی حیثیت دینے اور اس پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، تاکہ حاصل ہونے والی آمدنی دفاعی ضروریات، خصوصاً فوجی ڈرونز کی خریداری، کے لیے استعمال کی جاسکے۔ یہ تجویز ابھی حتمی قانون نہیں بنی۔ اس منصوبے کے پیچھے بنیادی حقیقت c ہے۔ یوکرین پانچویں سال میں داخل ہونے والی جنگ کے دوران بڑے دفاعی اخراجات، تباہ شدہ انفراسٹرکچر، کمزور معیشت اور بجٹ خسارے کا سامنا کررہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حکومت کو دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے اضافی وسائل درکار ہیں، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی امداد پر انحصار بھی برقرار ہے۔

مجوزہ اقدام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جب ایک بڑی صنعت پہلے ہی غیر رسمی طور پر موجود ہے تو اسے قانونی دائرے میں لاکر ٹیکس ریونیو، شفافیت اور ریاستی نگرانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ یاروسلاو زیلیزنیاک کے اندازے کے مطابق اس شعبے سے تقریباً 25 ملین ڈالر سالانہ حاصل ہوسکتے ہیں، جسے تقریباً 30 ہزار فوجی ڈرونز کی خریداری سے جوڑا جارہا ہے۔ اس تجویز کا ایک اور پہلو قانون اور حقیقت کے درمیان فرق ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین میں فحش مواد کی تیاری اور تقسیم پر سخت قانونی پابندیاں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود آن لائن بالغ مواد کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ OnlyFans کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں تقریباً 7,900 یوکرینی صارفین نے اس پلیٹ فارم سے مجموعی طور پر 131 ملین ڈالر کمائے تھے۔

جنگ کے نتیجے میں اس صنعت کو قانونی بنانے کی بحث دراصل ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: کیا طویل جنگ ریاستوں کو اپنے معاشی اور سماجی اصول تبدیل کرنے پر مجبور کردیتی ہے؟ یوکرین کا معاملہ بتاتا ہے کہ جب دفاعی ضروریات فوری اور وسائل محدود ہوں تو حکومتیں نئے ٹیکس ذرائع، نجی شعبے اور غیر روایتی معاشی سرگرمیوں کو بھی قومی دفاع سے جوڑنے لگتی ہیں۔تاہم اس فیصلے کے سماجی اور اخلاقی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو بالغ مواد کے کاروبار کو قانونی بنانے کی صورت میں عمر کی تصدیق، کارکنوں کے حقوق، استحصال کی روک تھام، رازداری، آن لائن پلیٹ فارمز کی نگرانی اور انسانی اسمگلنگ جیسے معاملات کے لیے واضح ضابطے بنانا ہوں گے۔

یہ بحث اس بات کی بھی علامت ہے کہ جدید جنگ صرف ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتی۔ جنگ معیشت کو بدلتی ہے، قانون کو تبدیل کرتی ہے، ریاستی ترجیحات کو نئی شکل دیتی ہے اور معاشرے کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کردیتی ہے جو معمول کے حالات میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے ہیں۔ یوکرین میں پورن انڈسٹری کو قانونی بنانے کی بحث اسی بدلتی ہوئی جنگی معیشت کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 242