’کچھ بنیادی شائستگی سیکھیں‘‘؛ چینی فوجی اتاشی کے پیغام پر فلپائنی وزیر دفاع کا سخت جواب
( مانیٹرنگ ڈیسک) سیئول: جنوبی بحیرہ چین کے متنازع پانیوں پر چین اور فلپائن کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوگئی جب فلپائن کے وزیر دفاع گلبرٹو ٹیودورو نے سیئول میں ایک دفاعی اجلاس کے دوران چینی مؤقف پر سخت ردعمل دیا۔ ٹیودورو جنوبی بحیرہ چین کے تنازعے اور بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری حقوق پر گفتگو کررہے تھے کہ اجلاس کے عملے نے سامعین کی جانب سے ایک تحریری پیغام ان تک پہنچایا۔ منتظمین کے مطابق یہ نوٹ جنوبی کوریا میں تعینات ایک چینی فوجی اتاشی کی جانب سے تھا۔
پیغام میں بیجنگ کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا گیا کہ 2016 کا جنوبی بحیرہ چین ثالثی فیصلہ غیر قانونی، کالعدم اور بے اثر ہے اور اس کی کوئی پابند قانونی حیثیت نہیں۔ ٹیودورو نے پیغام بلند آواز میں پڑھنے کے بعد چین پر شدید تنقید کی اور بنیادی شائستگی اور رویے کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر چین اقوام متحدہ کے UNCLOS کنونشن کو تسلیم کرتا ہے تو پھر اسی قانونی فریم ورک کے تحت آنے والے ثالثی فیصلے کو یکطرفہ طور پر مسترد کرنے کا جواز کیسے پیدا ہوتا ہے؟
2016 کا فیصلہ اتنا اہم کیوں ہے؟
12 جولائی 2016 کو UNCLOS کے تحت قائم ثالثی ٹریبونل نے فلپائن کے مقدمے میں اہم فیصلہ سنایا۔ ٹریبونل نے چین کے وسیع Nine-Dash Line دعووں کے حوالے سے کہا کہ UNCLOS سے باہر تاریخی سمندری حقوق کا ایسا دعویٰ قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔ چین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور اسے ’’null and void‘‘ قرار دیا۔ یہاں ایک اہم قانونی نکتہ بھی ہے: 2016 کا فیصلہ زمین کی ملکیت یا ہر جزیرے کی حتمی خودمختاری کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سمندری حقوق اور UNCLOS کی تشریح سے متعلق تھا۔ فلپائن اسے اپنے سمندری حقوق کے لیے اہم قانونی بنیاد سمجھتا ہے، جبکہ چین مسلسل اس کی قانونی حیثیت مسترد کرتا آیا ہے۔
کشیدگی کا بڑا پس منظر
بحیرہ جنوبی چین دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے اور یہاں ماہی گیری، توانائی کے ممکنہ ذخائر، سمندری راستوں اور فوجی موجودگی کے باعث متعدد ممالک کے مفادات وابستہ ہیں۔ فلپائن کا الزام ہے کہ چین اس کے خصوصی اقتصادی زون میں دباؤ بڑھاتا اور اس کی سمندری سرگرمیوں میں مداخلت کرتا ہے، جبکہ بیجنگ اپنے وسیع تاریخی دعووں اور علاقائی خودمختاری پر زور دیتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں منیلا نے امریکا سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون بھی بڑھایا ہے۔ ٹیودورو نے اسی سیئول اجلاس میں خبردار کیا کہ خطے میں کسی بھی سکیورٹی خلا سے چین فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یوں ایک مختصر سا ’’آڈیئنس نوٹ‘‘ محض تلخ جملوں کا تبادلہ نہیں بلکہ اس وسیع تر تنازعے کی عکاسی ہے جس میں بین الاقوامی قانون، علاقائی طاقت، فوجی دباؤ اور سفارتی شائستگی سب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔




