اقوام متحدہ کے نقشے نے بھارت میں ہلچل مچا دی؛ کشمیر، اروناچل اور اکسائی چن پر نئی بحث
( مانیٹرنگ ڈیسک): اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی نقشہ سازی کو زیادہ متوازن بنانے کے لیے منظور کی گئی نئی قرارداد نے جنوبی ایشیا کے متنازع علاقوں کی عکاسی کے باعث بھارت میں ایک نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم معاملے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے 4 ستمبر کو قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا؛ نئی دہلی کا اعتراض قرارداد پر نہیں بلکہ نقشے میں اپنی متنازع سرحدوں کی ممکنہ عکاسی پر ہے۔
نئی نقشہ سازی میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کے بعض علاقوں کو بھارت اور چین کے الگ الگ دعوائی خطوط کے درمیان متنازع حیثیت میں دکھایا گیا ہے، جبکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے حوالے سے بھی سرحدی تنازع کی نشاندہی موجود ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کی سرکاری جغرافیائی حدود کو کسی ایسے انداز میں نہیں دکھایا جانا چاہیے جس سے اس کی علاقائی خودمختاری کے بارے میں ابہام پیدا ہو۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کسی مخصوص عالمی نقشے یا سرحدی نقشے کی توثیق نہیں کرتی۔ اس کے باوجود نئی دہلی نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ سے منسلک کسی بھی نقشے میں جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کسی بھی غلط یا گمراہ کن عکاسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
تنازع صرف نقشے کا نہیں
جنوبی ایشیا میں نقشہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ خودمختاری، قومی سلامتی اور سفارت کاری کا حساس مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تنازع ہے، جبکہ اکسائی چن اور اروناچل پردیش بھارت اور چین کے درمیان سرحدی اختلافات کا حصہ ہیں۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے نقشے میں دعوائی خطوط یا متنازع حدود کی کوئی بھی عکاسی سیاسی پیغام تصور کی جاسکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی دوران بھارت اور چین نے اروناچل پردیش کے مشرقی سیکٹر میں اعلیٰ سطح کی فوجی بات چیت بھی کی ہے، جس کا مقصد لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کشیدگی کم کرنا اور سرحدی انتظام بہتر بنانا ہے۔
یہ نقطۂ نظر پاکستان کے مؤقف کو سفارتی اور اخلاقی اعتبار سے تقویت فراہم کرتا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے نقشے میں متنازع علاقوں اور دعوؤں کی عکاسی اس امر کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو محض دوطرفہ یا یکطرفہ دعوے کے طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے مطابق بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر پر مستقل قبضہ اور یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متصادم ہیں۔ یہ تناظر پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید وزن اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔




