بھارتی کرنسی دباؤ میں، پاکستانی روپے کے مقابلے میں گر گئی

بھارتی روپیہ ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار ہے اور 10 ستمبر 2026 کو مسلسل تیسرے سیشن میں کمزور ہو کر تقریباً 95.44 روپے فی ڈالر پر بند ہوا

بھارتی روپیہ کمزور، پاکستانی روپیہ مستحکم؛ جنوبی ایشیا کی کرنسی جنگ میں نیا موڑ

( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی روپیہ ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار ہے اور 10 ستمبر 2026 کو مسلسل تیسرے سیشن میں کمزور ہو کر تقریباً 95.44 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔ یہ جولائی کے وسط کے بعد ایک دن میں اس کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، ڈالر کی طلب اور کمپنیوں کی ہیجنگ رہی۔ رواں ہفتے تیل کی قیمت میں 6 فیصد سے زیادہ اضافہ بھارتی کرنسی کے لیے اضافی دباؤ بن چکا ہے۔

بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے مہنگا خام تیل درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ اور افراطِ زر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اگر تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں روپے کے لیے بحالی مشکل ہوسکتی ہے۔ امریکی شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بھی سرمایہ کاروں کو ابھرتی منڈیوں سے محتاط کر سکتے ہیں۔تاہم بھارت کے پاس ایک بڑا حفاظتی بفر موجود ہے۔ بھارتی زرمبادلہ ذخائر 28 اگست تک ریکارڈ 740.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے ریزرو بینک آف انڈیا کے پاس روپے کو ضرورت کے وقت سہارا دینے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ RBI حالیہ دنوں میں ڈالر فروخت کرنے کے ساتھ ڈالر-روپیہ سواپس بھی استعمال کر رہا ہے۔

پاکستانی روپے کے مقابلے میں یہ صورتِ حال ایک دلچسپ علاقائی تقابل پیش کرتی ہے۔ پاکستان کا روپیہ بھی بنیادی خطرات سے آزاد نہیں، خصوصاً تیل کی درآمد اور بیرونی فنانسنگ کے حوالے سے، لیکن حالیہ عرصے میں اس کی مارکیٹ میں نسبتاً نظم و استحکام نمایاں رہا ہے۔ آنے والے دنوں کا بنیادی منظرنامہ: اگر تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو بھارتی روپیہ RBI کی مضبوط ذخائر پوزیشن کے باعث دوبارہ سنبھل سکتا ہے؛ لیکن مشرقِ وسطیٰ کا بحران طویل ہوا تو 95 فی ڈالر کی سطح کے آس پاس دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ لہٰذا موجودہ صورتحال بھارت کے لیے فوری بحران سے زیادہ کرنسی، تیل اور عالمی سرمایہ کے دباؤ کا امتحان ہے۔


jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236