لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایڈ گبیسٹن میں ہونے والے فائنل ٹیسٹ کے تیسرے دن، نئی شاندار انٹری کرنے والے رضا اللہ خان نے 63 گیندوں پر 81 رن بنائے اور برطانیہ کو 130 رن کے ہدف کے ساتھ پیچھے دھکیل دیا۔
ایڈگبیسٹن میں انگلینڈ کے خلاف فائنل ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستان نے اپنی پوزیشن کو شدید خطرے سے بچایا۔ پہلی اِننگ میں انگلینڈ نے 320 رن کی بڑی برتری بنائی اور پاکستان 318/8 پر پہنچ کر شدید مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔
اس وقت نویں وکٹ پر آنے والے ڈیبیوئنٹ رضا اللہ خان نے 63 گیندوں پر 81 رن بنائے جس میں نو چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ اُن کی جارحانہ کھیل نے ٹیم کے حوصلے کو بحال کیا اور مخالف ٹیم پر دباؤ بڑھایا۔
رضا اللہ نے محمد عباس کے ساتھ 121 رنز کی اہم نویں وکٹ کی شراکت بنائی۔ عباس نے 67 گیندوں پر 42 رن بنائے جن میں دو چھکے اور پانچ چوکے سامل تھے۔ اِس شراکت نے پاکستان کو 449 آل آؤٹ کر کے انگلینڈ کے لیے 130 رن کا ہدف دے دیا۔
برطانوی بالر گس ایٹکنسن، رابرنسن، ٹانگ اور لارنس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ رابرنسن نے میچ میں کُل پانچ وکٹیں لیں جبکہ ٹانگ نے چھ۔ دوسری طرف آرچر نے پہلی اِننگ میں 3/25 کے ساتھ متاثر کن کارکردگی دکھائی تھی لیکن دوسری اِننگ میں وہ کوئی کھلاڑی آئوٹ نہ کر سکے۔
پاکستان کے دیگر بلے بازوں نے بھی رنز بنائے۔ شان مسعود اور ازان اویس نے شمولیت کے بعد 56/2 کی صورتحال سے 123 رن کی شراکت دی۔ شان نے 95 رن بنائے جبکہ ازان 59 رن ہر آئوٹ ہوئے۔ بابر اعظم نے 76 رن کی شاندار اننگ کھیلی جبکہ سعود شکیل نے 29 رن بنائے۔
رضااللہ خان کی یہ پہلی ٹیسٹ انٹری نہ صرف اُن کے کیریئر کے لئے اہم موڑ ثابت ہوئی بلکہ پاکستان کے کرکٹ کے لیے ایک نئی اُمید بھی پیدا ہوئی ہے۔ اُن کی جارحانہ حکمت عملی اور شاندار چھکوں نے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکال کر مقابلے کا موقع فراہم کیا۔




