اسرائیلی بستیوں کے معاملے میں کریمیا جیسا رویہ اختیار کیا جائے، یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں قائم بستیوں کے معاملے پر ایک غیرمعمولی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ان بستیوں کے ساتھ وہی اصول اپنانا چاہیے جو اس نے روس کے زیرِقبضہ کریمیا کے معاملے میں اختیار کیے ہیں۔ کالاس کے مطابق اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی ایک ’’اصولی مؤقف‘‘ ہوگا

اسرائیلی بستیاں کریمیا جیسی قرار؛ یورپی یونین میں بڑا پالیسی موڑ؟

( مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں قائم بستیوں کے معاملے پر ایک غیرمعمولی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ان بستیوں کے ساتھ وہی اصول اپنانا چاہیے جو اس نے روس کے زیرِقبضہ کریمیا کے معاملے میں اختیار کیے ہیں۔ کالاس کے مطابق اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی ایک ’’اصولی مؤقف‘‘ ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات یا تجارت محدود کرنے کے اقدامات کا اعلان کرچکے ہیں۔ فرانس نے بھی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ متعدد دیگر یورپی ممالک اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کررہے ہیں۔

کالاس کا کریمیا سے موازنہ سیاسی طور پر انتہائی اہم ہے۔ روس نے 2014 میں کریمیا کو اپنے ساتھ ضم کیا، جسے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے وسیع تر بین الاقوامی مؤقف نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بعد یورپ نے کریمیا سے متعلق اقتصادی سرگرمیوں اور تجارت پر پابندیاں عائد کیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہی قانونی اور اقتصادی اصول اسرائیلی بستیوں پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔

یورپی مؤقف کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ حالیہ یورپی اقدامات کا مقصد مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنا نہیں بلکہ بستیوں سے منسلک مخصوص اقتصادی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا ہے۔

تاہم عملی رکاوٹیں موجود ہیں۔ تمام 27 یورپی ممالک اسرائیلی بستیوں کی قانونی حیثیت پر یکساں مؤقف رکھتے ہوئے بھی پابندیوں کی سطح پر متفق نہیں ہیں۔ جرمنی سمیت بعض ممالک وسیع تر اقتصادی اقدامات کے حوالے سے محتاط ہیں۔

اگر یورپی یونین واقعی کریمیا جیسے تجارتی اصول کو بستیوں پر نافذ کرتی ہے تو اس کے معاشی اثرات شاید محدود ہوں، مگر سفارتی اور سیاسی اثرات بہت گہرے ہوسکتے ہیں۔ یہ اسرائیل پر یورپی دباؤ، فلسطینی ریاست کے لیے حمایت اور مشرق وسطیٰ میں یورپ کی خارجہ پالیسی کی سمت میں ایک نمایاں تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236