واشنگٹن (بیورو رپورٹ) مقامی امریکی میڈیا کے مطابق امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ایسے افراد کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جن پر کوئی فوجداری سزا یا زیرِ التواء فوجداری چارج نہیں ہیں، یہ ہدایت ’’کولیٹرل گرفتاریوں‘‘ کو بھی ختم کر دے گی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انئی ہدایت کے تحت وفاقی امیگریشن اہلکار اُن افراد کو گرفتار کر سکتے ہیں جن پر فوجداری سزا یا زیرِ التواء فوجداری چارج ہوں لیکن اُنہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا جو مجرم نہ ہوں چاہے اُن کے خلاف حتمی ڈی پورٹیشن آرڈر بھی جاری ہو چکے ہوں۔
میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی ’’کولیٹرل گرفتاریوں‘‘ کے اختتام کا باعث بھی بنے گی کیونکہ پہلے جب کسی مجرمانہ اہداف کی تلاش کے دوران قانونی حیثیت نہ رکھنے والے افراد کو بطورِ ضمنی گرفتار کیا جاتا تھا لیکن وہ عمل اب روکا جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس ہدایت پر بعض آئی سی ای اہلکار ناخوش ہیں اور ایک ذریعے نے انتخابی تناظر کا عندیہ دیا کیونکہ اُن کے نزدیک اِس کا تعلق آنے والے مِڈ ٹرم انتخابات سے ہے۔ امریکی انتظامیہ انتخابات سے پہلے معاملات کو پرسکون کرنا چاہتی ہے۔ ایک اور سورس نے کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ گرفتاریوں کی تعداد کہیں کم ہو جائے گی۔
رپورٹ میں ایک واقعہ بھی شامل کیا گیا جس کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹیکساس میں ایک آئی سی ای اہلکار نے ایک وینیزویلا کے فرد کو فائر کر کے زخمی کر دیا تھا، اِس واقعے کے بعد ایجنسی نے اہلکاروں کو یہ یاد دہانی کروائی تھی کہ چینکنگ یا گرفتاری کے عمل کے دوران باڈی کیمروں کو فعال کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ نے یہ بھی کہا گیا کہ ایک وفاقی جج نے وینیزویلا کے شہری ولبر رفائل گارسز پریز کو 30 ستمبر کی سماعت میں پیش ہونے کا حکم دیا جس سے اُس کی ڈی پورٹیشن عارضی طور پر رُک گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ بعض آئی سی ای اہلکار شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا صدر ٹرمپ کو اِس ہدایت کا علم ہے؟ ایجنسی کے ایک اہلکار نے کہا، اُنہیں اُمید ہے کہ جیسے ہی صدر ٹرمپ کو اِس بات کا پتہ چلے گا، وہ اِس ہدایت کا خاتمہ کر دیں گے۔




