(اے آئی) کا بے لگام مستقبل؟ گیٹس سمیت ٹیک ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے ایک حالیہ انٹرویو میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بغیر مؤثر نگرانی ترقی کو “مکمل طور پر غیر ذمہ دار” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو (اے آئی) کے حفاظتی نظام اور نگرانی میں براہِ راست کردار ادا کرنا چاہیے۔ گیٹس نے خبردار کیا کہ انتہائی طاقتور (اے آئی)، اگر غلط انداز میں تیار یا استعمال ہوئی، تو بڑے پیمانے پر انسانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ تشویش صرف گیٹس تک محدود نہیں۔ ستمبر 2026 میں (اینتھروپک) کے (سی ای او) ڈاریو اموڈی نے (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کو محدود رفتار میں رکھنے، آزادانہ حفاظتی جانچ اور مشترکہ عالمی معیارات کی تجویز دی۔ (اوپن اے آئی) کے (سی ای او) سیم آلٹ مین اور ایلون مسک نے بھی (اے آئی) کی ترقی کی رفتار اور حفاظتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔
(اے آئی) کے مستقبل کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ مشینیں انسانوں سے زیادہ ذہین کب ہوں گی، بلکہ یہ ہے کہ ان کی صلاحیت بڑھنے کی رفتار انسانی اداروں کی نگرانی سے آگے تو نہیں نکل جائے گی۔ تاریخی طور پر نئی ٹیکنالوجیز کے لیے قوانین اکثر ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بعد بنے۔ (اے آئی) میں مسئلہ یہ ہے کہ تبدیلی کا دورانیہ کہیں زیادہ مختصر ہے۔ آج کے جدید ماڈلز نہ صرف مواد تخلیق کرتے ہیں بلکہ کوڈ لکھنے، تحقیق، سائبر سکیورٹی، فیصلوں اور بعض خودکار کارروائیوں میں بھی استعمال ہورہے ہیں۔ ملازمتوں کا مستقبل بھی ایک اہم تشویش ہے۔ گیٹس نے روزگار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جبکہ ماہرین کے درمیان اختلاف ہے کہ (اے آئی) زیادہ تر ملازمتیں ختم کرے گی یا کام کی نوعیت تبدیل کرے گی۔
دوسرا خطرہ سائبر حملوں، غلط معلومات، خودکار ہتھیاروں اور (اے آئی) کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔ تیسرا مسئلہ طاقت کا ارتکاز ہے: اگر انتہائی طاقتور (اے آئی) صرف چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں رہی تو ٹیکنالوجی، معلومات اور معاشی طاقت بھی محدود اداروں میں مرکوز ہوسکتی ہے۔ تاہم تمام ماہرین مکمل پابندی کے حامی نہیں۔ فی-فی لی اور اینڈریو اینگ سمیت بعض ماہرین شعبہ جاتی قوانین، تحقیق اور انسانی نگرانی پر زور دیتے ہیں، جبکہ (اے آئی) کی مکمل رفتار روکنے کے بجائے محفوظ استعمال پر توجہ دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ یوں 2026 کی بحث کا مرکزی سوال “(اے آئی) کو روکنا یا نہیں” نہیں بلکہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ (اے آئی) کو کس حد تک، کن اصولوں کے تحت اور کس کی نگرانی میں آگے بڑھایا جائے۔



