اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ نے ایسے مبینہ منصوبے کی سخت مخالفت کی جس کے تحت کرد مسلح گروہوں کو ایران میں داخل کیے جانے کا امکان تھا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر رجب طیب اردگان نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ اس منصوبے کو ترک کیا جائے، جبکہ انقرہ نے واضح کیا کہ اپنی سرحدوں کے قریب کرد مسلح گروہوں کے کردار میں اضافے کو وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق امریکہ، ترکیہ یا اسرائیل نے نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ ترکیہ کی دیرینہ سکیورٹی پالیسی اور خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔




