کیا بچوں کی تربیت کا ایک ‘بہترین طریقہ’ ہے؟ آن لائن مشوروں کی کثرت والدین کو پریشان کر رہی ہے

بی بی سی اردو کی رپورٹ کہتی ہے کہ آن لائن تربیتی مشوروں کی کثرت نے والدین کو پریشان کر دیا ہے اور تحقیق میں کم عمر بچوں کے والدین میں تقریباً دو تہائی نے پریشانی کا اقرار کیا ہے۔

لاہور (ویب ڈیسک) آن لائن دستیاب تربیتی مشوروں کی کثرت کی وجہ سے کم عمر بچوں کے والدین میں سے تقریباً دو تہائی خود کو پریشان محسوس کرتے ہیں اور متضاد رہنمائی انہیں مشکل میں ڈال رہی ہے، بی بی سی اردو نے لکھا ہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین کو بچوں کی پرورش کے مختلف نظریات جیسے جینٹل پیرنٹنگ، ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ، ٹائیگر پیرنٹنگ اور سنو پلو انداز کے مشورے مہیا ہیں، اور یہ انتخاب بعض والدین کے لیے ’انتہائی پریشان کن‘ ثابت ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں روزی وِٹفیلڈ کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد انھیں آن لائن بہت زیادہ مشورے ملنے لگے جنھوں نے روزمرہ کے فیصلوں کو بھی مشکل بنا دیا۔ روزی کا کہنا ہے کہ مشوروں کی بار بار پڑتال نے ان کے اعتماد اور فطری سمجھ بوجھ کو متاثر کیا۔

بی بی سی کے مطابق ایک سرکاری تحقیق بھی دکھاتی ہے کہ کم عمر بچوں کے والدین میں سے تقریباً دو تہائی دستیاب معلومات کی کثرت سے پریشان ہوتے ہیں اور متضاد مشوروں کی وجہ سے رہنمائی حاصل کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے شریک والدین اکثر مدد کے لیے سوشل میڈیا کی طرف رجوع کرتے ہیں، تاہم وہاں بھی متضاد اور کبھی غیر سائنسی مشورے ملتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ بچوں کی تربیت کے مقبول رحجانات ایک جھولے کی مانند بدلتے رہتے ہیں اور ہر نسل پچھلی نسل کی کسی غلطی کا تدارک کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایویڈنس بیسڈ پیرنٹنگ کی مصنفہ میٹلڈا گوسلنگ کا کہنا ہے کہ کئی مقبول نظریات ایک سیدھے سادے رشتے کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیتے ہیں اور اس کے بجائے محبت، شفقت اور مناسب حدود پر زور دینا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ والدین کے لیے سوال اٹھاتی ہے کہ کیا واقعی بچوں کی تربیت کا کوئی واحد بہترین طریقہ موجود ہو سکتا ہے یا مختلف حالات میں مختلف طریقے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ بی بی سی کے مضمون میں تحقیق اور ماہرین کے حوالوں کے ساتھ یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ’اتھارٹیٹو‘ یعنی محبت کے ساتھ واضح حدود والے انداز کو اکثر مطالعات بہترین قرار دیتے ہیں، مگر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ساری صورتوں میں ایک ہی فارمولہ ہر خاندان کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔

بی بی سی اردو قارئین کو بتاتی ہے کہ والدین کو دستیاب معلومات میں توازن تلاش کرنا چاہیے، غیر سائنسی یا متضاد مشوروں پر انحصار کم رکھنا چاہیے اور جب ضرورت ہو تو مستند ماہرین سے راہنمائی لینا بہتر ہوگا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742