ایک ہفتے میں روس کے تین سکیورٹی دورے، اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی سیکیورٹی وفود نے اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی کا دورہ کیا؛ 14 اکتوبر کو کولوکولٹسیف نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور منظم جرائم کے خلاف تعاون کا معاہدہ ہوا۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایک ہفتے میں روس کے تین سینئر سیکیورٹی وفود نے خطے کے تین دارالحکومتوں — اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی — کا دورہ کیا، اور 14 اکتوبر کو روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف نے اسلام آباد/راولپنڈی میں پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جبکہ پاکستان اور روس نے منظم جرائم کے خلاف تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔

روس کے خارجہ و سلامتی کے تین اعلیٰ عہدے داروں کے متواتر دورے حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے تین مختلف روسی سیکیورٹی وفود نے خطے کے تین دارالحکومتوں کا دورہ کیا، جن میں 14 اکتوبر کو روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کا اسلام آباد اور راولپنڈی کا دورہ شامل تھا۔ کولوکولٹسیف نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم بات چیت کی اور دونوں ممالک کے درمیان منظم جرائم کے خلاف تعاون کے لیے ایک معاہدہ بھی طے پایا۔

اسی دن روس کے بیرونی خفیہ ادارے کے ڈائریکٹر سرگئی ناریشکن کابل میں تھے جہاں انہوں نے طالبان کے خفیہ ادارے کے سربراہ عبد الحق وسق سے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ نئی دہلی میں روسی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سکرٹری الیگزنڈر وینیڈکٹو نے بھارتی ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر پوون کپور کے ساتھ مشترکہ سیکیورٹی مذاکرات کی قیادت کی۔

رپورٹ اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ماسکو کی یہ بیک وقت سرگرمیاں علاقائی سیاسی توازن اور نئی اتحادی ترتیبات کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ روس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور ماسکو فارمیٹ کی میٹنگ میں روسی وزیر خارجہ کا افغانستان کے بارے میں مثبت جائزہ اور طالبان انتظامیہ کو “قومی حکومت” قرار دینا بھی اس پالیسی کا اظہار تھا۔ اسی اجلاس میں شرکاء مشترکہ بیان جاری کرنے میں ناکام رہے جب افغان حلقوں نے دہشت گردی اور پاک-افغان کشیدگی سے متعلق الفاظ پر اعتراض کیا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماسکو نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ایک خطرہ تسلیم کیا ہے مگر وہ اس خطرے کو لازماً طالبان حکومت سے جوڑنے کے مؤقف سے ہٹ کر بات کر رہا ہے۔ کچھ سفارت کار اس رجحان کو مکہ معاہدے کے بعد خطے میں بدلتے سیاسی اور اقتصادی مفادات سے بھی مربوط کرتے ہیں، جبکہ بعض نے روس پر یمن میں حوثیوں کی مدد کے الزامات بھی اٹھائے ہیں — یہ دعوے رپورٹ میں بطور تردیدی نقطۂ نظر پیش کیے گئے ہیں اور خود رپورٹ نے ان کی آزاد توثیق مشکل قرار دی ہے۔

کسی بھی صورت میں، ماسکو کی یہ بیک وقت مصروفیات اور پاکستان، افغانستان اور بھارت کے ساتھ رابطے اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ روس خطے میں دوبارہ سرگرم ہو رہا ہے اور اس کی آئندہ کارروائیاں اسلام آباد اور خطائی شراکت داروں کے لیے معنی خیز پیغام رکھ سکتی ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742