ایران کا آپریشن نصر دوم میں امریکی اڈوں پر 11 لڑاکا طیارے تباہ اور 200 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ

ایرانی پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ 'آپریشن نصر دوم' میں امریکی فوجی اڈوں پر 11 لڑاکا طیارے تباہ ہوئے اور پندرہ روز میں 200 امریکی ہلاک ہوئے؛ ایران نے اسرائیل اور برطانیہ کو بھی خبردار کیا۔

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پاسدارانِ انقلاب فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن نصر دوم کے دوران امریکی فوجی اڈوں پر 11 لڑاکا طیارے تباہ کرنے کے علاوہ گزشتہ 15 روز میں ایران نے 200 امریکی ہلاک کر فیے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن نصر دوم کے دوران ایرانی ڈرون اور میزائل امریکی دفاعی نظام کی روک ٹوک کے بغیر اہداف تک پہنچے جس کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں پر ہلاکتوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

محبی نے انٹرویو میں کہا کہ امریکی دفاعی نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائلوں کو روک ہی نہیں سکا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ حملوں کے دوران آٹھ فوجی تعیناتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک مقام پر 20 پناہ گاہیں تباہ ہوئیں۔

سرکاری بیانات میں مزید کہا گیا کہ امریکی حکومت نے صحافیوں کو تباہ شدہ فوجی مراکز کا دورہ کرائے تاکہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے، تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار ایرانی حکام کی جانب سے دیے گئے دعوؤں پر مبنی ہیں اور ان کی خود مختار طور پر تصدیق فی الحال دستیاب نہیں۔

ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے نشر کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا جبکہ پاسداران نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر وہ دوبارہ جنگ میں شامل ہوا تو ’’آفت‘‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

ایرانی بیانات کے مطابق برطانیہ کو پیغام دیا گیا کہ ‘حال ہی میں ایک بمبار طیارہ برطانیہ کے فضائی اڈے سے اُڑا اور اگر برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھا تو وہ ایرانی نقطہ نظر کے مطابق ’’جائز ہدف‘‘ ہو گا۔

ایرانی حکام کے اِن دعوؤں کی گیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی۔ پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے دیے گئے بیانات میں البتہ لڑائی کے دورانیے کے دوران حاصل ہونے والے اہداف اور دعوے تفصیلاً درج ہیں اور اِنہیں ایرانی سرکاری ذرائع نے رپورٹ کیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46