بنکاک میں اسرائیل مخالف احتجاج؛ ’تھائی لینڈ برائے فروخت نہیں‘ کا نعرہ کیوں؟
بنکاک میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں تھائی شہریوں کا احتجاج محض اسرائیل کی غزہ پالیسی کے خلاف مظاہرہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے تھائی خودمختاری، غیر ملکی زمین کی ملکیت، سیاحت اور مقامی ثقافت سے جڑے گہرے خدشات بھی موجود ہیں۔ 10 ستمبر کو سابق میڈیا شخصیت اور سیاسی کارکن سونتھی لِم تھونگکُل کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے میں “تھائی لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔” اور ’’یہ وہ ارضِ موعود نہیں ہے‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
غصے کی اصل وجہ کیا ہے؟
تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی زمین کی ملکیت پہلے ہی حساس قانونی اور قومی مسئلہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں کوہ فانگان، کوہ ساموئی اور پائی جیسے سیاحتی علاقوں میں بعض مقامی حلقوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی شہری یا ان سے منسلک کاروباری افراد زمین، کاروبار اور جائیداد کے معاملات میں قوانین سے بچنے کے لیے مقامی افراد کو بطور نامزد امیدوار استعمال کر رہے ہیں۔ ان الزامات کے ساتھ بعض مقامات پر بل ادا نہ کرنے، مقامی لوگوں سے جھگڑوں اور ثقافتی طور طریقوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے واقعات بھی سوشل میڈیا پر نمایاں ہوئے۔
غزہ جنگ نے ماحول کیوں بدل دیا؟
7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ شروع ہونے کے نتیجے میں اسرائیلی شہریوں، خصوصاً فوجی اہلکاروں کی تھائی لینڈ آمد میں اضافہ ہوا۔ 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 277,000 سے زیادہ اسرائیلی تھائی لینڈ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً سات فیصد زیادہ تھے۔ اس بڑھتی موجودگی نے مقامی سطح پر اسرائیلی سیاحوں کے رویے، کاروباری سرگرمیوں اور بعض مذہبی مراکز کے بارے میں بحث کو مزید نمایاں کیا۔
’وعدہ شدہ سرزمین‘ کا تاریخی اور سیاسی مفہوم‘
’’یہ Promised Land نہیں‘‘ کا نعرہ بنیادی طور پر اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ تھائی شہری اپنے ملک میں کسی بھی غیر ملکی کمیونٹی کو مستقل سیاسی، معاشی یا ثقافتی اثر و رسوخ حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن اسے اسرائیل-فلسطین تنازع کی تاریخی اصطلاحات کے ساتھ براہِ راست ملانا درست نہیں؛ یہاں اس کا استعمال تھائی قومی خودمختاری کے استعارے کے طور پر کیا گیا۔
تاہم احتجاج کا ایک تشویشناک پہلو یہود مخالف نعروں اور پوسٹروں کی موجودگی بھی تھی۔ اسرائیلی حکومت یا بعض اسرائیلی شہریوں کی پالیسیوں پر تنقید اور پوری یہودی برادری کو نشانہ بنانا دو مختلف چیزیں ہیں۔
تھائی لینڈ کے لیے ممکنہ نتائج
یہ احتجاج اگر بڑھتا ہے تو حکومت کو ایک مشکل توازن قائم کرنا ہوگا: غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کو برقرار رکھتے ہوئے زمین اور کاروباری قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی، مقامی ثقافت کا تحفظ، اور ساتھ ہی مذہبی یا نسلی بنیاد پر نفرت کی روک تھام۔ تھائی حکومت نے اسرائیلی سفیر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، سیاحت اور عوامی روابط پر بھی بات کی ہے۔
یوں بنکاک کا احتجاج اسرائیل کے خلاف غصے، تھائی قوم پرستی، غیر ملکی ملکیت کے خوف اور غزہ جنگ کے عالمی اثرات کے امتزاج کی علامت بن گیا ہے—لیکن اسے پورے تھائی معاشرے کی اسرائیل یا یہودیوں کے بارے میں اجتماعی رائے قرار دینا درست نہیں ہوگا۔




