کشیدگی کے بعد اعلیٰ ترین رابطہ , پزشکیان کی برکس میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے ملاقات

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی ملاقات محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ جنگ زدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ممکنہ نئے سفارتی باب کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

ایران، امارات کی تاریخی ملاقات؛ خلیج میں جنگ کے بجائے سفارت کاری کا نیا راستہ؟

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی ملاقات محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ جنگ زدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ممکنہ نئے سفارتی باب کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کے باوجود یہ تنازع کے آغاز کے بعد اعلیٰ ترین سطح کا اہم رابطہ ہے۔

اس ملاقات کی تاریخی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات خلیج کے دو ایسے ممالک ہیں جن کے درمیان تجارت، توانائی، سمندری راستوں اور جغرافیائی قربت کے باعث اختلاف کے ساتھ باہمی مفادات بھی گہرے ہیں۔ دونوں ممالک نے برکس کے مشترکہ اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ سے زیادہ تحمل، شہریوں کے تحفظ، خودمختاری اور عالمی تجارت و سمندری استحکام پر زور دیا۔

خلیج کے لیے سب سے بڑا فائدہ کیا ہوگا؟

اگر یہ رابطہ مستقل مذاکرات میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ خلیجی سلامتی کو ہوسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور یہاں کشیدگی میں کمی سے تیل، گیس، بحری تجارت، انشورنس اور عالمی سپلائی چینز پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ بھارت جیسے بڑے توانائی درآمد کنندگان کے لیے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔

دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ایران اور عرب خلیجی ممالک کے درمیان براہِ راست بحران مینجمنٹ کا نظام تشکیل پائے۔ ماضی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی سے سفارتی تعلقات کی بحالی نے دکھایا کہ علاقائی طاقتیں بیرونی جنگی مداخلت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرسکتی ہیں۔

تیسرا پہلو برکس ہے۔ ایران اور امارات دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہیں، اس لیے برکس مستقبل میں صرف معاشی اتحاد نہیں بلکہ علاقائی بحرانوں میں سفارتی رابطے کا فورم بھی بن سکتا ہے۔ تاہم یہ ملاقات فوری امن معاہدہ نہیں؛ اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب رابطہ مستقل مذاکرات، جنگ بندی اور خلیجی سلامتی کے عملی اقدامات میں تبدیل ہو۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 232