برکس 2026 ؛ ڈالر کے مقابلے میں نئی مالیاتی صف بندی، مودی

نئی دہلی میں ہونے والے برکس 2026 سربراہی اجلاس نے عالمی معیشت میں ایک اہم تبدیلی کی بنیاد مضبوط کردی ہے۔ رکن ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری میں مقامی کرنسیوں کے استعمال اور تیز، کم لاگت اور محفوظ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے قومی ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

مودی کا ڈالر پر انحصار کم کرنے کا بڑا معاشی منصوبہ

( مانیٹرنگ ڈیسک) نئی دہلی میں ہونے والے برکس 2026 سربراہی اجلاس  نے عالمی معیشت میں ایک اہم تبدیلی کی بنیاد مضبوط کردی ہے۔ رکن ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری میں مقامی کرنسیوں کے استعمال اور تیز، کم لاگت اور محفوظ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے قومی ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم اسے فوری طور پر ’’برکس مشترکہ کرنسی‘‘ یا ڈالر کے خاتمے کا منصوبہ کہنا درست نہیں ہوگا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے یہ پیش رفت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بھارت اپنی یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI)  کو عالمی سطح پر وسعت دے رہا ہے۔ UPI پہلے ہی 11 ممالک میں کام کر رہی ہے اور اگست 2026 میں اس کے ذریعے 24.51 ارب لین دین ہوئے، جن کی مالیت تقریباً 314 ارب ڈالر تھی۔

برکس کا منصوبہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ اگر بھارت، روس، چین، ایران، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر رکن ممالک باہمی تجارت میں اپنی کرنسیوں اور باہمی طور پر قابلِ عمل ادائیگی کے نظام  کو زیادہ استعمال کریں تو ہر لین دین کے لیے ڈالر کے ذریعے بینکاری نظام سے گزرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ اس تبدیلی کے تین بڑے اثرات ہوسکتے ہیں۔ اول، امریکی مالیاتی پابندیوں اور ڈالر پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے ابھرتی معیشتوں کی حساسیت کم ہوسکتی ہے۔ دوم، سرحد پار ادائیگیاں تیز اور نسبتاً سستی ہوسکتی ہیں۔ سوم، برکس عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ خودمختار متبادل پیدا کرسکتا ہے۔

لیکن رکاوٹیں بھی بڑی ہیں۔ رکن ممالک کی کرنسیوں، مالیاتی پالیسیوں اور سیاسی مفادات میں نمایاں اختلافات ہیں۔ روس نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ’’ڈالر کی کمی‘‘ کو لازماً سیاسی مہم کے طور پر نہیں دیکھتا۔ لہٰذا برکس 2026 کا اصل انقلاب ڈالر کو ایک دن میں ختم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا متبادل مالیاتی نیٹ ورک بنانا ہے جس میں ڈالر واحد راستہ نہ رہے۔ اگر UPI جیسے نظام، مقامی کرنسیاں اور برکس ادائیگیوں کی باہمی مطابقت عملی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو عالمی تجارت میں طاقت کا توازن بتدریج بدل سکتا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236