( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں حوثیوں کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی نے امریکا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک نیا خطرناک محاذ کھول دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ امریکا کو اپنے تنازع میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حوثی زیادہ تر بحری جہازوں کو گزرنے دے رہے ہیں، تاہم ایک ملک کے جہازوں سے متعلق ان کے تحفظات ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے دو مرتبہ رابطہ کرکے ایران نواز حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کی۔ حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے باب المندب کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ان کا بڑھتا اثر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
ٹرمپ حملے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟
واشنگٹن کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ حوثیوں پر براہِ راست حملہ صرف یمن تک محدود نہیں رہ سکتا۔ ایران پہلے ہی خطے میں شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی سعودی عرب یا دیگر امریکی اتحادیوں کو ایرانی یا علاقائی جوابی کارروائی کے خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ فی الحال براہِ راست فوجی حملے کے بجائے انٹیلی جنس اور ہدف بندی کی معاونت پر توجہ دے رہی ہے۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب عالمی تجارت کا اہم chokepoint ہے۔ اس پر حوثیوں کا دباؤ بڑھنے سے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل، کنٹینر شپنگ اور دیگر اشیا کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔ پہلے ہی ہرمز کی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے؛ باب المندب میں مزید بحران تیل کی قیمتوں اور عالمی افراطِ زر کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی سعودی تیل کی برآمدات اور عالمی سپلائی کے لیے خاص طور پر خطرناک بن رہی ہے۔
سعودی عرب کے لیے مسئلہ کیا ہے؟
ریاض کے لیے حوثیوں کی پیش قدمی صرف سرحدی سلامتی کا مسئلہ نہیں۔ سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کے لیے سمندری راستوں اور بنیادی تنصیبات کے تحفظ کا خواہاں ہے۔ اسی لیے MBS واشنگٹن سے زیادہ فعال حمایت چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ اس تنازعے میں براہِ راست داخل ہوکر امریکا کے لیے ایک اور طویل جنگ کا دروازہ کھولنے سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ یوں حوثیوں کا ’امریکا جنگ میں نہ آئے‘ پیغام اور MBS کی ’امریکی حملے‘ کی درخواست مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی طاقت کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اگر باب المندب مستقل طور پر غیر محفوظ ہوتا ہے تو اس کے اثرات یمن سے کہیں آگے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور علاقائی طاقت کے توازن تک پہنچ سکتے ہیں۔




