پاکستان کی مچھلی اور سمندری غذا کی برآمدات 75 فیصد تک بڑھ گئیں

وفاقی وزیر کے مطابق پہلے سہ ماہیِ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی مچھلی اور سمندری غذا کی برآمدات $125.4 ملین ہو گئیں جبکہ برآمدی مقدار تین سال میں 74.8 فیصد بڑھی ہے۔
Economy Related News

وفاقی وزیر کے مطابق پہلے سہ ماہیِ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی مچھلی اور سمندری غذا کی برآمدات $125.4 ملین ہو گئیں جبکہ برآمدی مقدار تین سال میں 74.8 فیصد بڑھی ہے۔

شہری رہمن نے کہا کہ اسلام آباد میں آج ای ایس جی پالیسی پر کام اور اس کی توسیع پاکستان کے موسمی اہداف، پائیداری بینچ مارکس اور کارپوریٹ انکشافات کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت گندم اور چینی کی سرکاری مداخلت ختم کرنے کا فیصلہ کیا، مگر پیداوار کے باوجود نفاذ سیاسی، ریگولیٹری اور ذخیرہ اندوزی خامیوں کی وجہ سے مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ماخذ کے مطابق ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور 21 ارب ڈالر سے زائد ذخائر کے باوجود پاکستان کو برآمدات کمزور، قرضوں کا بوجھ اور صنعتی اصلاحات کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی تیل کے صدمے کی قیمت "ہزاروں ارب روپے" ہے، اس لیے مہنگے پیٹرول پر غیرمشروط سبسڈیز جاری رکھنا ممکن نہیں اور وہ اگلے ہفتے سعودی عرب جائیں گے۔

ایف بی آر چیئرمین نے کہا کہ صرف روپے کی قدر کم کرنا تجارتی خسارہ ختم کرنے کے لیے کافی نہیں؛ اس کے لیے معیشت کی پیداوری صلاحیت اور برآمدی ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کو تقریباً 148 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا چکا ہیں، جبکہ پاکستان کو ملنے والے قرضے محض 6-7 بلین ڈالر تھے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے آئی بی اے کراچی کے فنانس طلبہ کے لیے سرمایہ کاری آگاہی سیشن منعقد کیا جس میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور پی ایس ایکس کے ملکی کردار پر زور دیا گیا۔

نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریئٹ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست سازی کے موقع پر منعقدہ گونگ تقریب میں ایس ای سی پی چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدو نے خطاب کیا، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب مہمانِ خصوصی تھے۔

چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجوہات کی نشاندہی کی، تاہم ماخذ میں تفصیلی وجوہات یا اعدادوشمار شامل نہیں تھے۔