مصر میں ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کیس میں سزائے موت

مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں 11 دیگر افراد کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں 11 دیگر افراد کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے معروف ٹی وی میزبان اور فنکارانہ پروڈیوسر سارہ خلیفہ کو ایک بڑے منشیات کیس میں سزائے موت سنا دی ہے۔ قاہرہ کی عدالت نے سارہ خلیفہ سمیت مجموعی طور پر 12 ملزمان کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ سے متعلق مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی۔ فیصلہ ہفتے کے روز سنایا گیا اور عدالت نے یہ حکم مصر کے مفتیِ اعظم سے شرعی رائے حاصل کرنے کے بعد جاری کیا۔

یہ مقدمہ مصری میڈیا میں ’’بڑی منشیات کیس‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور کئی ماہ سے ملک میں خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر ایک منظم مجرمانہ گروہ تشکیل دینے، منشیات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے مواد کی درآمد، منشیات بنانے اور انہیں تجارت کے لیے رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ بعض ملزمان پر غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کے الزامات بھی تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے سارہ خلیفہ اور دیگر ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اگست میں عدالت نے سارہ خلیفہ سمیت 13 ملزمان کے مقدماتی کاغذات مفتیِ اعظم کو بھیجے تھے تاکہ سزائے موت کے بارے میں شرعی رائے حاصل کی جاسکے، جس کے بعد 5 ستمبر کو فیصلہ سنایا گیا۔مقدمے میں مجموعی طور پر 28 افراد نامزد تھے۔ عدالت نے 12 ملزمان کو سزائے موت، 9 کو عمر قید جبکہ 7 کو بری کرنے کا حکم دیا۔ سارہ خلیفہ کے خلاف فیصلہ متفقہ طور پر سنایا گیا۔ سارہ خلیفہ کا نام مصر میں ٹیلی وژن اور شوبز سے وابستہ شخصیت کے طور پر نمایاں رہا ہے۔ مقدمے کے فیصلے کے بعد ان کا نام مصر میں سوشل میڈیا اور سرچ پلیٹ فارمز پر بھی نمایاں طور پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ تاہم عدالتی سزا کے باوجود معاملہ قانونی طور پر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 232