حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر دھماکے، 73 افراد زخمی

حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، 73 افراد زخمی ہوئے اور کئی تیل کی تنصیبات پر آگ لگ گئی۔ یہ حملے خطے کی کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں حوثیوں کے درجنوں ڈرون اور میزائل حملوں سے توانائی کی تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا، جس میں 73 افراد زخمی ہوئے اور کئی تیل کی تنصیبات پر آگ لگ گئی۔

سعودی فوج اور وزارتِ توانائی کے مطابق منگل کے روز حوثیوں نے درجنوں ڈرون اور بالستک میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے کے چار بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں نے ملک کی اہم توانائی تنصیبات کو خاص طور پر متاثر کیا۔ توانائی کے متعدد مراکز پر آگ لگنے کی وجہ سے کچھ آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حیثیتِ ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس حملے کو “خطرناک کشیدگی” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائلوں کا ہدف ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہری اور اقتصادی مقامات تھے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے ملک کی توانائی سیکٹر کی کارکردگی اور عوام کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ ردعمل سعودی فوج کی گزشتہ تین دنوں میں یمن کے مختلف صوبوں پر کیے گئے 120 سے زیادہ فضائی حملوں کے جواب میں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے اس “وحشیانہ جارحیت” کے مقابلے میں درجنوں بالستک میزائل اور ڈرونز کا استعمال کیا۔

سعودی قیادت والا علاقائی اتحاد اس گروہ کے خلاف تمام ضروری آپریشنل اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد کے کردار پر بھی گفتگو جاری ہے، جس سے اس خطے کی سکیورٹی پر اثرات مرتب ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی سطح دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ چار سال کی غیر اعلانیہ جنگ بندی جولائی میں ٹوٹ گئی جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر میزائل و ڈرون حملے شروع کر دیے۔ اس کے بعد سے یمن کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے، جہاں 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور 18,500 سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

یہ واقعات خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک خطرناک پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1536