کیا ایران بھی اسی معاہدے پر رضامند ہوگا جو امریکہ نے باب المندب پر حوثیوں کے ساتھ کیا ہے؟

عمان میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان مبینہ رابطوں کے بعد خطے میں بحری سلامتی اور سفارت کاری کے نئے امکانات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حوثیوں نے امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اس نوعیت کی مفاہمت کی تفصیلات اور دائرۂ کار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

باب المندب پر حوثیوں کی یقین دہانی، کیا آبنائے ہرمز پر ایران بھی ایسی ہی ڈیل کرے گا؟

عمان میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان مبینہ رابطوں کے بعد خطے میں بحری سلامتی اور سفارت کاری کے نئے امکانات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حوثیوں نے امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اس نوعیت کی مفاہمت کی تفصیلات اور دائرۂ کار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

یہ پیش رفت ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: اگر حوثی باب المندب کے حوالے سے امریکا کو یقین دہانیاں دے سکتے ہیں تو کیا ایران بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر اسی طرز کا معاہدہ کرسکتا ہے؟ دونوں آبی راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ہیں، لیکن ان کے سیاسی، عسکری اور قانونی حالات یکساں نہیں۔

حوثیوں پر ایران کا اثر: مکمل کنٹرول یا قریبی تعلق؟

ایران اور حوثیوں کے درمیان سیاسی، عسکری اور علاقائی تعاون کے شواہد موجود ہیں۔ تہران کی حمایت نے حوثیوں کی صلاحیتوں میں کردار ادا کیا ہے، لیکن انہیں ایران کے مکمل تابع یا ہر فیصلے میں تہران کے حکم کا پابند قرار دینا ایک غیر ثابت شدہ سادہ کاری ہوگی۔ حوثیوں کی اپنی قیادت، مقامی مفادات اور فیصلہ سازی بھی ہے۔

اسی لیے حوثیوں کے ساتھ کسی ممکنہ مفاہمت کو خودبخود ایران کی رضامندی یا ہرمز پر کسی معاہدے کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔ البتہ ایران کے ساتھ رابطوں میں حوثیوں کا کردار، یا اس کے برعکس، علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک قابلِ غور پہلو ہوسکتا ہے۔

کیا خطے میں پالیسی بدل رہی ہے؟

اگر بحری حملوں کو محدود کرنے، جہاز رانی کی حفاظت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے آگے بڑھتے ہیں تو یہ سخت فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ محدود سفارتی انتظامات کی طرف بھی اشارہ کرسکتا ہے۔ اس میں عمان اور قطر جیسے ثالثوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، کسی ایک رابطے کو پورے خطے کی پالیسی میں تبدیلی قرار دینے کے لیے مزید سرکاری شواہد درکار ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان ہرمز پر ممکنہ مفاہمت کے لیے صرف بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔ پابندیوں، جوہری تنازع، علاقائی سلامتی، بحری گزرگاہوں کے قواعد اور باہمی اعتماد جیسے معاملات بھی مذاکرات پر اثرانداز ہوں گے۔

باب المندب اور ہرمز: ایک جیسا فارمولا؟

دونوں راستوں پر کشیدگی کم کرنا عالمی تیل اور تجارت کے لیے اہم ہوگا، مگر حوثیوں کے ساتھ ممکنہ سمجھوتہ ایران کے ساتھ کسی وسیع معاہدے کا متبادل نہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا فریقین محدود یقین دہانیوں کو قابلِ تصدیق اقدامات، مسلسل رابطوں اور وسیع تر مذاکرات میں تبدیل کرسکتے ہیں یا نہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 249