اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے کہا ہے کہ اگست 2026ء میں ملک کی مجموعی افراط زر 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال اگست کی 3.56 فیصد شرح سے کم و بیش تین گُنا ہے، ماہانا اضافہ 1.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق اگست 2026ء میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی سالانہ بنیادوں پر شرح 11.1 فیصد رہی جبکہ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔ یہ اضافہ ایک سال پہلے کے اسی ماہ کی 3.56 فیصد شرح کے مقابلے میں دو گُنا سے زائد ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر افراطِ زر اگست میں 1.2 فیصد بڑھی۔ شہری اور دیہی دونوں خطوں میں قیمتوں کا دباؤ بڑھا ہے، شہری علاقوں میں افراط زر کی سالانہ شرح 10.4 فیصد تک پہنچ گئی جو جولائی کی 8.7 فیصد اور اگست 2025ء کی 3.5 فیصد سے بہت زیادہ بلند ہے۔ دیہی افراطِ زر تیز رفتاری سے بڑھی اور 12.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ جولائی میں دیہی شرح 9.9 فیصد اور اگست 2025ء میں محض 2.5 فیصد تھی۔ ماہانہ دیہی افراطِ زر اگست میں 1.6 فیصد بڑھی جبکہ شہری ماہانہ اضافہ 0.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
سینسیٹو پرائس انڈیکس یعنی حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کی سالانہ شرح اگست میں 9.5 فیصد رہی جو جولائی کے 12 فیصد سے کم ہے تاہم اگست 2025ء کی 2.6 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہت زیادہ ہے۔ ایس پی آئی ماہانہ بنیادوں پر 0.9 فیصد بڑھی جبکہ جولائی میں یہ 2.4 فیصد تھی۔
ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں بھی اضافہ دیکھا گیا، یہ اگست میں سالانہ 11.8 فیصد شرح سے بڑھی جو جولائی کی 9.4 فیصد اور اگست 2025ء میں ریکارڈ شدہ ایک فیصد کمی کے مقابلے میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر ڈبلیو پی آئی میں دو فیصد اضافہ قیکارڈ کیا گیا جبکہ جولائی میں یہ مستحکم رہا تھا۔
بنیادی افراطِ زر بھی بلند رہنے کے آثار ہیں، شہری غیر خوراک غیر توانائی بنیادی افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی بنیادی افراطِ زر 8.5 فیصد رہا۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ خوراک، توانائی اور ہول سیل سطح پر قیمتوں کے اضافے نے مجموعی مہنگائی کو بڑھا دیا ہے جس کا براہِ راست اثر صارفین کی قوتِ خرید اور روزمرہ اخراجات پر پڑتا ہے۔




