لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور جنرل ہسپتال (ایل جی ایچ) کے گائناکالوجی وارڈ کی چھت میں نصب برقی تاروں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی تاہم حاملہ خواتین سمیت قریباً 70 افراد کو عمارت سے نکال لیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حکام نے آگ شروع ہوتے ہی وارڈ میں موجود تمام افراد کو احتیاطی طور پر عمارت سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا۔ طبی عملے اور سکیورٹی سٹاف کی بروقت کارروائی کے باعث متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق صرف ایک سیکیورٹی گارڈ کو دھوئیں کے باعث سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ہسپتال کے ایمرجنسی میں داخل کرایا گیا اور ابتدائی طبی امداد دی گئی جس کے باعث اُن کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی بنیادی وجہ چھت میں موجود برقی تاروں کا شارٹ سرکٹ معلوم ہوتا ہے مگر حتمی تفتیش کے بعد ہی اصل سبب کا اعلان کیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا کہ ورڈ کی دیکھ بھال اور حفاظتی پروٹوکول کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) میں نرسری میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ جاں بحق ہوئے تھے۔ اِس حالیہ واقعے نے بڑے عوامی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی رسپانس کے طریقۂ کار پر سوالات کھڑے کر دیے تھے تاہم ایل جی ایچ کی آگ کو بروقت بجھا کر ہستال انتظامیہ نے اپنے آپ کو اور وارڈ میں موجود درجنوں افراد کو بچا لیا ۔
ماہرین اور شہری ادارے اکثر پرانی تنصیبات، ناقص بجلی کی تنصیبات اور فائر الارم/سپرنکلر سسٹم کی عدم موجودگی کو حادثات کی بڑی وجوہات قرار دیتے ہیں اِس لیے حکومتی اور انتظامی سطح پر مستقل حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔




