امریکہ کا سٹرٹیجک پٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) 1982ء کے بعد سب سے کم سطح پر آ چکا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’’عملی حد‘‘ سے نیچے جانے کے باعث نہ صرف بحران کو شدید کر سکتا ہے بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ پانچ سالوں میں 1970ء کی دہائی کے تیل بحران کے بعد قائم کیے گئے ایس پی آر سے بڑے پیمانے پر تیل جاری کرنے کے بعد اب اس ذخیرے کو تیزی سے خالی ہوتے دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ مقدار 289.7 ملین بیرل ہے اور اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ساتھ مارچ میں طے پائے معاہدے کے تحت 39 ملین بیرل مزید جاری کر دیا تو اِس کی سطح تقریباً 243 ملین بیرل تک گر جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایس پی آر ٹیکساس اور لوئیزیانا کے ساحل کے نیچے نمک کی غاروں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے جہاں تیل پانی کے اوپر تیرتا ہے اور جب تیل نکالا جاتا ہے تو پانی کی سطح بڑھتی ہے جس سے غاروں اور پائپ لائنوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ زخیرے کی کم از کم سطح 70 ملین بیرل ہے تاہم ماہرین کے مطابق اِس کی عملی حد تقریباً 250 ملین بیرل کے قریب ہے۔ اُن کے مطابق ریزرو کا بنیادی مشن بحران کے وقت تیز رفتار سپلائی فراہم کرنا ہے اور 250 ملین بیرل کے نیچے آپریشن خطرناک ہو جاتا ہے۔
امریکی صدور نے 2021ء سے 2022ء کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تقریباً 230 ملین بیرل جاری کیے گئے۔ ایران کی جنگ کے بعد 30 سے زائد ممالک نے ریکارڈ 400 ملین بیرل جاری کرنے کا معاہدہ کیا تھا جس میں امریکہ نے 172 ملین بیرل شامل کیے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینیزویلا کے تیل سے ایس پی آر کو بھرے گا تاہم ماہرین کے مطابق اِس سے ذخائر کی تیزی سے بحالی یا قیمتوں میں فوری کمی ممکن نہیں اِس لیے تیل کا مزید اخراج اِس کی عالمی قیمتیں بڑھا سکتا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
متعلقہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ پرانی انفراسٹرکچر، جاری کنسٹرکشن آئوٹجز اور کھدائی کے مسائل کی وجہ سے ایس پی آر کی بھرائی اور نکاسی کی صلاحیت خطرے میں ہے۔ اِس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ عالمی رسد میں خلل کی صورت میں حکومتوں کے پاس منڈی کو سنبھالنے کے لیے محدود پالیسی آپشن رہ جائیں گے۔




