تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے چھ ماہ بعد ایران میں زیادہ تر شہریوں کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے، روزمرہ جدوجہد، بڑھتی مہنگائی، کرنسی کی تاریخی گرتی قدر اور توانائی کی قلت عوام کو پریشان کر رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکومت اور فوجی قیادت نے جنگ کے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے اور اپنی نظریاتی خطوط پر کسی نرمی کے بغیر قائم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال اور اعلیٰ فوجی اور سرکاری رہنماؤں کی ہلاکتوں کے بعد بھی ملک کی قیادت برقرار رہی۔
ایران میں معاشی صورتِحال بدتر ہے، مرکزِ آمارِ ایران کے اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر مجموعی مہنگائی 89 فیصد بڑھی جبکہ خوراک کی مہنگائی 127 فیصد سے زائد رہی۔ تہران کے ایک ڈیٹا اینالسٹ کے مطابق تین سال پہلے اُس کی تنخواہ ایک ہزار ڈالر سے زائد کے برابر تھی مگر اب افراطِ زر کی وجہ سے وہ رقم پانچ سو ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہے۔
کرنسی ریال نے اوپن مارکیٹ میں 2.06 ملین فی ڈالر کی نئی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ جنگ کے دوران تیل، گیس، پیٹرو کیمیکل، سٹیل، اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے توانائی اور ایندھن کی قلت بڑھا دی ہے۔ حکومت نے ذاتی گاڑیوں کے لیے ایندھن کوٹہ کم کر دیا ہے اور کچھ ہی ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔




