میر رضا علی کی قبر کشائی اہلخانہ کے اعتراض پر مؤخر، میڈیکل بورڈ میں ’راتوں رات’ تبدیلی سے تنازعہ کھڑا ہو گیا

کراچی میں میر رضا علی کی قبر کشائی اہلخانہ کے احتجاج پر مؤخر کر دی گئی، خاندان نے نوٹیفیکیشن میں 'راتوں رات' تبدیلی کی نشاندہی کی اور مکمل غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی میں 25 سالہ تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی اہلخانہ کے اعتراض پر مؤخر کر دی گئی جب خاندان نے دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کے بعد تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ میں ’راتوں رات‘ تبدیلی کی گئی۔ مقامی عدالت نے جمعرات (چھ جولائی) کو ازسر نو تحقیقات کے لیے قبر کشائی کی منظوری دی تھی تاہم اہلخانہ نے جمعے کو عملے کی آمد پر نئے نوٹیفیکیشن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

کراچی کے نوجوان تاجر اور معروف وافل چین ’’وافلکس‘‘ کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعد ازاں اُن کی لاش گلستانِ جوہر بلاک ون کے قریب شاہی قلعہ گراؤنڈ کے جھاڑیوں سے ملی۔ مقتول کی لاش اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے باوجود پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی اور قتل کی نوعیت واضح نہیں ہو پائی۔

اہلخانہ نے دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم پر پولیس سرجن کراچی نے فارنزک اور پیتھالوجی کے ماہرین پر مشتمل آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا، مگر بعد ازاں ‘راتوں رات’ اس بورڈ میں تبدیلی کی گئی جس کے باعث وہ اس عمل پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اہلخانہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے بی بی سی سے کہا کہ ایک افسر نے اختیارات سے تجاوز کر کے خلافِ قانون نوٹیفکیشن جاری کیا؛ ابتدائی نوٹیفیکیشن کے بعد رات گئے سات ارکان کو تبدیل کر کے نئے نام شامل کیے گئے اور بعد میں ایک تیسرا نوٹیفکیشن جاری کر کے دونوں بورڈز کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔

جبران ناصر نے کہا کہ اہلخانہ نے اس نئے بورڈ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور ان کے مطابق یہ تبدیلیاں عدالت کے حکم کے منافی ہیں۔ اُن کا الزام ہے کہ اس عمل کا مقصد قبر کشائی میں تاخیر پیدا کرنا تھا کیونکہ یہ کارروائی صرف ایک مرتبہ ہو سکتی ہے اور تاخیر سے ممکنہ شواہد متاثر ہو سکتے ہیں۔

اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر بھی سوالات اٹھائے؛ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل ہونے کے دعوے اس صورت میں کیے جا رہے ہیں جب عدالت نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اطمینان نہ ہونے کے باعث دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا، جبکہ مدعی کا بیان بروقت ریکارڈ نہیں کیا گیا اور جائے وقوعہ سے گولی کا خول عدالت کے حکم کے بعد دوبارہ تلاشی پر ملا۔

والد میر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس تحقیق پر اعتماد ابتدائی دنوں میں ختم ہو گیا اور غسل کے دوران میت پر تشدد کے نشانات دیکھے گئے جن کی بنیاد پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی مخصوص شخص پر براہِ راست الزام نہیں لگا رہے مگر مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1539