اسلام آباد — معاشی رابطہ کاری کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو محکمہ پیٹرولیم کی تجویز منظور کرتے ہوئے غیرملکی تیل سپلائرز کو اپنے اکاؤنٹس پر درآمد کی گئی پیٹرولیم مصنوعات کو پاکستان کے منظورشدہ کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں رکھنے کی اجازت دے دی، جس کا مقصد ملک کی توانائی سکیورٹی مضبوط کرنا اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز تیار کرنا بتایا گیا ہے۔
معاشی رابطہ کاری کمیٹی (ای سی سی) نے محکمہ پیٹرولیم کی وہ منصوبہ بندی منظور کی ہے جس کے تحت غیرملکی سپلائرز اپنی طرف سے درآمد کرائی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کو کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات میں رکھ سکیں گے۔ اس انتظام کے دوران اشیاء کسٹمز بانڈڈ نظام کے تحت رہیں گی۔
حکومت کے مطابق یہ قدم پاکستان کی توانائی سکیورٹی کو مضبوط کرنے، اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز کو فروغ دینے اور پیٹرولیم سپلائی چین کو زیادہ لچکدار بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ منظوری میں بتایا گیا ہے کہ یہ اہداف امدادی ذخائر قائم کرنے اور بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ تعاون بہتر بنانے کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔
پروپیکیستان کے رپورٹ کے مطابق مجوزہ سہولت میں شامل مصنوعات کی فہرست میں خام تیل، پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنس آئل، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اشیاء کو منظورتہ بانڈڈ گوداموں میں جمع کر کے ملک میں دستیابی برقرار رکھی جا سکے گی جبکہ کاغذی طور پر وہ اشیاء کسٹمز کنٹرول کے دائرے میں رہیں گی۔
حکومت نے اس تجویز کو توانائی کے بازار میں ممکنہ خلل یا سپلائی رکاوٹوں کے دوران فوری رسد کو یقینی بنانے کے ایک آلے کے طور پر پیش کیا ہے۔ سرکاری اعلامیے یا کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلی کارروائی میں فی الوقت نفاذ کی ٹائم لائن یا کن شرائط کے تحت مخصوص سپلائرز اس سہولت سے مستفید ہوں گے، اس پر مزید وضاحت موجود نہیں۔
ای سی سی کی یہ منظوری اس پالیسی سلسلے کا حصہ ہے جس کا مقصد ملکی توانائی نظام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنانا اور طویل مدتی اسٹوریج صلاحیتیں بڑھانا بتایا گیا ہے۔ وفاقی حکام آئندہ ہدایات اور منظوری یافتہ بانڈڈ گوداموں کی فہرست جاری کریں گے، اور نفاذ سے متعلق قواعد و ضوابط بعد میں فراہم کیے جائیں گے۔




