مودی، شہباز شریف کے درمیان SCO میں خاموشی

مودی، شہباز شریف کے درمیان خاموشی: پاکستان کی بڑھتی علاقائی اہمیت اور بھارت کا بدلتا پڑوس

مودی، شہباز شریف کے درمیان خاموشی: پاکستان کی بڑھتی علاقائی اہمیت اور بھارت کا بدلتا پڑوس

بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود سفارتی فاصلے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان کسی نمایاں یا باضابطہ دوطرفہ ملاقات کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں، تاہم اجلاس میں دونوں ممالک ایک ہی کثیرالجہتی پلیٹ فارم پر موجود رہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ اسلام آباد بیک وقت چین، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اقتصادی، دفاعی اور سفارتی سطح پر وسعت دے رہا ہے۔ پاکستان کی SCO پوزیشن کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا، چین، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ گوادر، سی پیک اور وسطی ایشیائی رابطوں کے منصوبے پاکستان کو علاقائی تجارت اور توانائی کے ممکنہ مرکز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں بھارت بھی SCO کا اہم رکن ہے اور روس، وسطی ایشیا اور ایران کے ساتھ اپنے وسیع روابط رکھتا ہے۔ تاہم پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے اسلام آباد کو کئی علاقائی طاقتوں کے ساتھ ایک فعال شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے۔اس تناظر میں سندھ طاس معاہدہ (IWT) پاکستان کے لیے ایک مرکزی سفارتی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد مسلسل مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا اور دریاؤں کے پانی پر کسی بھی اقدام کے لیے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کا احترام ضروری ہے۔ یوں SCO پاکستان کو بھارت کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے علاقائی رابطوں، پانی، توانائی اور سلامتی کے وسیع تر ایجنڈے کے ذریعے نی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 232